اُردو کی کتب (کتاب چہارم)

by Other Authors

Page 121 of 189

اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 121

اُردو کی کتاب چهارم میں لٹکا دیا گیا اور پھر امیر نے حکم دیا کہ شہید مرحوم کی ناک میں چھید کر کے اس میں رسی ڈال دی جائے اور اس رستے سے شہید مرحوم کو کھینچ کر مقتل (یعنی سنگسار کرنے کی جگہ ) تک پہنچایا جائے۔چنانچہ اس ظالم امیر کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور ناک کو چھید کر سخت عذاب کے ساتھ اس میں رسی ڈالی گئی تب اس رسی کے ذریعہ شہید مرحوم کو نہایت ٹھیٹھے ہنسی اور گالیوں اور لعنت کے ساتھ مقتل لے گئے جب مقتل پر پہنچے تو صاحبزادہ مرحوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا اور پھر اس حالت میں جبکہ وہ کمر تک زمین میں گاڑ دیئے گئے تھے امیران کے پاس گیا اور کہا کہ اگر تو قادیانی سے جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے انکار کرے تو اب بھی میں تجھے بچالیتا ہوں۔اب تیرا آخری وقت ہے اور یہ آخری موقعہ ہے جو تجھے دیا جاتا ہے اور اپنی جان اور اپنے عیال پر رحم کرتب شہید مرحوم نے جواب دیا کہ نعوذ باللہ سچائی سے کیونکر انکار ہوسکتا ہے اور جان کیا حقیقت اور عیال و اطفال کیا چیز ہیں جن کے لئے میں ایمان کو چھوڑ دوں۔مجھے سے ایسا ہر گز نہیں ہوگا اور میں حق کے لئے مروں گا۔جب ایسی نازک حالت میں شہید مرحوم نے بارہا کہہ دیا کہ میں ایمان کو جان پر مقدم رکھتا ہوں تب امیر نے اپنے قاضی کو حکم دیا کہ پہلا پتھر تم چلاؤ کہ تم نے کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔قاضی نے کہا کہ آپ بادشاہ وقت ہیں آپ چلاویں ۱۲۱