اُردو کی کتب (کتاب سوم) — Page 30
اُردو کی کتاب سوم : عزت کو اپنے لئے چاہتا تھا۔حتی کہ لوگ آپس میں لڑنے مرنے کو تیار ہو گئے اور بعض نے تو زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق ایک خون سے بھرے ہوئے پیالے میں اُنگلیاں ڈبو کر قسمیں کھائیں کہ لڑ کر مر جائیں گے مگر اس عزت کو اپنے قبیلہ سے باہر نہ جانے دیں گے۔اس جھگڑے کی وجہ سے تعمیر کا کام کئی دن تک بند رہا۔آخر ابو امیہ بن مغیرہ نے تجویز پیش کی کہ جو شخص سب سے پہلے حرم کے اندر آتا دکھائی دے وہ اس بات میں حکم ہوکر فیصلہ کرے کہ اس موقعہ پر کیا کرنا چاہئے۔اللہ کی قدرت لوگوں کی آنکھیں جو اٹھیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں۔آپ کو دیکھ کر سب پکار اُٹھے: ”آمین آمین اور سب نے باتفاق کہا کہ ” ہم اس کے فیصلہ پر راضی ہیں۔“ جب آپ قریب آئے تو انہوں نے آپ سے حقیقت امر بیان کی اور فیصلہ چاہا۔آپ نے اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ایسا فیصلہ فرمایا کہ سب سرداران قریش دنگ رہ گئے اور آفرین پکار اٹھے۔آپ نے اپنی چادر لی اور اس پر حجر اسود کو رکھ دیا اور تمام قبائل قریش کے رؤسا کو اس چادر کے کونے پکڑ وادیئے اور چادر اُٹھانے کا حکم دیا۔چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اُٹھایا اور کسی کو بھی شکایت نہ رہی۔یہ اللہ تعالی کی طرف سے تصویری زبان میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل جواب برسر پیکار ہیں وہ اس پاک وجود کے ذریعہ سے ایک مرکز پر جمع ہو جائیں گے۔جب حجر اسود کی اصلی جگہ کے محاذ میں چادر پہنچی تو آپ نے اپنے