حضرت اُمّ حبیبہ ؓ — Page 5
حضرت ام حبيبة رض 5 تھا۔پھر میں نے محمد اللہ کا دین اختیار کر لیا۔اب پھر میں عیسائی بن گیا ہوں۔میں بولی اللہ کی قسم اُس دین میں تمہارے لئے بھلائی نہیں اور میں نے اس سے اپنا رات کا خواب بیان کیا مگر اُس نے خواب کی پرواہ نہیں کی اور شراب پر ٹوٹ پڑا۔یہاں تک کہ موت آ گئی۔پھر میں خواب میں دیکھتی ہوں کہ ایک آنے والا مجھے ام المؤمنین کہہ کر پکار رہا ہے۔گھبرا کر میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اس کی یہ تعبیر لیا کہ مجھ سے رسول اللہ کے نکاح کرلیں گے۔(9) اللہ تعالی نے حضرت ام حبیبہ کے دل کو مضبوط رکھا اور وہ اسلام پر قائم رہیں۔آپ سوچیئے کہ اتنے سے عرصے میں حضرت ام حبیبہ نے اسلام کی خاطر کتنے دکھ اُٹھائے گھر میں ابوسفیان جیسے ظالم باپ کا سامنا پھر وطن چھوڑنا اور وہ بھی بڑی مشکل سے، پھر پردیس میں شوہر کا مرتد ہونا اور پھر بیوہ ہو جانا۔کتنی مشکلات کا سامنا تھا دیکھنا یہ ہے کہ ایک کمزور عورت کا دل کیسے اتنا مضبوط رہا۔اس پر اللہ تعالی کا خاص فضل نظر آتا ہے۔ایک طرف ایک کے بعد ایک مشکلات آ رہی تھیں تو دوسری طرف ایک کے بعد ایک فضلوں کے دروازے کھل رہے تھے۔جب اللہ تعالیٰ کسی سے پیار کرتا ہے تو پھر اُس کا خوب ساتھ دیتا ہے جب سارے جہاں کے