حضرت اُمّ حبیبہ ؓ — Page 6
حضرت ام حبيبة رض 6 لئے رحمت بنا کر بھیجے جانے والے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی تکالیف کی خبر پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے دل میں ڈالا کہ یہ مظلوم عورت ایک سردار کی بیٹی ہے سرداروں ہی کے قابل ہے آ۔سہارا دیں اور ان سے شادی کر کے گھر لے آئیں۔مکہ کے سرداروں کے متعلق یہ یادر کھئے کہ عرب میں قبائلی نظام تھا ہر قبیلے کا اپنا سردار ہوتا تھا جسے رئیس کہتے تھے اگر کوئی شادی اس طرح ہوتی کہ ایک قبیلے کا دولھا اور دوسرے قبیلے کی دُلہن تو اُن قبائل میں ایک دوسرے سے آپس میں دوستی کا تعلق قائم ہو جاتا اور اگر ایک قبیلے کی دوسرے قبیلے سے لڑائی ہو جاتی تو بعض اوقات وہ سالوں چلتی اور نسلوں تک جاری رہتی۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلام کا پیغام لائے تھے جس کا مطلب امن قائم کرنا ہے تو آپ ﷺ نے یہ طریق بھی اختیار کیا کہ بعض سردارانِ قریش کی بیٹیوں سے شادی کر کے امن اور محبت کی فضا پیدا کی۔قرآن مجید میں لکھا ہے۔قریب ہے کہ اللہ تمہارے اور ان میں سے ان لوگوں کے درمیان جن سے تم باہمی عداوت رکھتے تھے محبت ڈال دے۔“ (الممتحنه: 8) اور ایسا ہی ہوا ابوسفیان جو جنگ اُحد اور جنگِ احزاب وغیرہ میں