حضرت اُمّ طاہر — Page 34
سیرت حضرت سیدہ مریم النساء (أم طاہر صاحبہ ) ارتم از امین خدا تو مرحومه مغفورہ کو اپنے خاص فضل و رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور اُن کی اُن تمام نیک مرادوں کو جو دہ زندگی میں رکھتی تھیں بصورت احسن پورا فرما بلکہ اس سے بھی بہت بڑھ کر۔آمین کم آمین۔21 اس اندوہناک صدمہ کی حالت میں آپ کے تمام بچوں خصوصاً حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ اسیح الرابع نے جس صبر اور حوصلہ کا نمونہ دکھایا اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔جن دنوں آپ کی اُمی کی حالت انتہائی تشویشناک ہو گئی تھی آپ کے میٹرک کے امتحانات تھے جس کی وجہ سے آپ قادیان میں ہی تھے اگلے دن آپ کا حساب کا پرچہ تھا جس کی تیاری میں مصروف تھے کہ آپ کی والدہ کی وفات کی خبر آگئی اس والدہ کی جس کی جدائی پر پوری جماعت رو رہی تھی آپ نے انتہائی صبر ،حوصلہ، وقار اور رضا جوئی کا مظاہرہ کیا اور کہا مجھے دو تین مرتبہ ایسی خواہیں آچکی ہیں جن سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ بس امی فوت ہو جائیں گی۔اگلے دن آپ نے اپنا پر چہ بھی دیا۔وہ بچہ جس نے دن رات اس قدر غم اور پریشانی کی حالت میں گزارے ہوں اس کا کمرہ امتحان میں جا کر پر چہ عمل کرنا انتہائی مشکل مرحلہ تھا مگر اپنے نفس پر قابو پانے کی ایسی کوشش صرف اور صرف اللہ کے فضل اور اسی ماں کی تربیت کا نتیجہ تھی۔آپ کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے چالیس روزہ 34