حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ

by Other Authors

Page 2 of 21

حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ — Page 2

حضرت ام سلیم 2 نے ( جو مدینہ کے سب سے زیادہ مالدار آدمی تھے ) ام سلیم کو نکاح کا پیغام دیا۔مگر چونکہ ابوطلحہ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ام سلیم نے ان کے پیغام کا انکار کر دیا۔آپ نے اسلامی غیرت کا شاندار نمونہ دکھاتے ہوئے کہا میں مشرک سے ہرگز نکاح نہ کروں گی۔(2) حضرت ام سلیم نے حکمت سے ابوطلحہ کو اسلام کے خوبصورت پیغام کی طرف دعوت دی۔ابوطلحہ اس قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے جو درختوں کی پوجا کرتے تھے۔ام سلیمہ نے ابوطلحہ سے پو چھا کہ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ تمہارا معبود جس کی تم عبادت کرتے ہوزمین سے اگتا ہے۔انہوں نے کہا کیوں نہیں ! اُمِ سلیم نے کہا، پھر کیا تمہیں ایک درخت کو پوجتے شرم نہیں آتی ؟ ام سلیم نے انہیں اچھی طرح سمجھایا کہ آپ جیسے معزز آدمی کے پیغام کا میں انکار نہیں کر سکتی لیکن مشرک اور مسلمان کے درمیان شادی جائز نہیں ہے۔البتہ اگر آپ اسلام قبول کر لیں تو میں آپ سے کوئی حق مہر طلب نہ کروں گی۔آپ کا اسلام قبول کرنا ہی میرا مہر ہو گا۔چنانچہ ام سلیم کی تبلیغ سے ابوطلحہ نے کچھ عرصہ بعد اسلام قبول کر لیا۔اور ام سلیم نے وعدہ اپنا ء کرتے ہوئے ان سے نکاح کیا۔اُم سلیم کے بیٹے انس کی ولایت میں یہ نکاح طے پایا۔(3)