حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ

by Other Authors

Page 10 of 21

حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ — Page 10

حضرت اُم 10 ام سلیم نے گوشت کا عمدہ کھانا تیار کیا اور اپنے بیٹے انسٹ کے ہاتھ کھانے کا بھرا برتن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھجوایا اور کہلا بھیجا کہ اس خوشی کے موقعہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ حقیر ساتحفہ قبول فرما ئیں۔(14) صلى الله 7 ہجری میں غزوہ خیبر کے بعد حضرت صفیہ کی حضور ﷺ سے شادی ہوئی تو ام سلیم نے ہی حضرت صفیہ کو دلہن بنایا۔ام سلیم اکثر حضور ع کے گھر کی خواتین کے ساتھ غزوات اور سفروں پر جایا کرتی صلى الله تھیں۔(15) ام سلیم کا ایک اور دلچسپ واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ کی علی ام سلیم کے ہاں پرورش پانے والی ایک بچی پر نظر پڑی تو از راہ شفقت فرمایا ، ارے تم تو بہت بڑی ہو گئی ہو۔پھر از راہ مذاق فرمایا، اور بڑی مت ہوتا۔اس پر وہ بچی روتے ہوئے امر سلیم کے پاس چلی گئی۔آخر سلیم نے پوچھا میری بچی کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا ہے کہ اب اور بڑی نہ ہوتا۔بس اب تو میں کبھی بڑی نہ ہو سکوں گی۔یہ سن کر اُم سلیمز جلدی سے اٹھیں اور اپنی چادر اوڑھی اور حضور میلے کی خدمت میں حاضر ہو گئیں۔رسول اللہ ﷺ نے پوچھا اُم سلیم کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ کیا آپ نے میری یتیم بچی کو بد دعا دی