حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ

by Other Authors

Page 11 of 21

حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ — Page 11

حضرت اُم سلیم 11 ہے۔حضور ﷺ نے پوچھا وہ کیسے؟ انہوں نے حضور ﷺ کو سارا قصہ نایا کہ یا رسول اللہ ﷺ وہ تو یہی سمجھ رہی ہے کہ آپ اللہ نے یہ کہہ کر اور بڑی نہ ہونا اسے بد دعا دے دی ہے اس پر رسول اللہ ﷺہ ہنس پڑے اور فرمانے لگے اے ام سلیم کیا تمہیں پتہ نہیں کہ میں نے اپنے رب سے کیا شرط کر رکھی ہے؟ میں نے کہہ رکھا ہے کہ میں تو ایک انسان ہوں اور ایک عام انسان کی طرح ہی خوش بھی ہوتا ہوں اور غصے بھی۔اگر میں اپنی امت میں سے کسی کے بارہ میں کوئی ایسی بات کہہ دوں جس کا وہ اہل نہ ہوتو وہ بات اس کے لئے قیامت کے دن طہارت, پاکیزگی اور قرب الہی کا موجب بنا دے (16) اس واقعہ سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ام سلیمہ یتیم بچوں کی اپنے گھر میں نہایت پیار اور محبت سے پرورش کیا کرتی تھیں۔بچوں کے نازک جذبات، ان کی معصومانہ تکالیف کا احساس کرتیں اور انہیں دور کرنے کی بھی کوشش کرتی تھیں۔حضرت ام سلیم حضور ﷺ کی بہت صلى اللهم اطاعت گزار صحابی تھیں اور آپ میلے کے ہر حکم پر عمل کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ایک خاتون بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے اس بات پر بیعت لی کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔اس عہد کا جن پانچ عورتوں