حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ

by Other Authors

Page 9 of 21

حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ — Page 9

حضرت اُم سلیم 9 بیٹے کی وفات پر صبر کریں کیونکہ وہ بھی ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت تھا اور اب اس نے ہم سے اپنی امانت واپس لے لی ہے۔ابوطلحہ مسجد نبوی میں جا کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو سارا صل الله صلى الله واقعہ کہہ سنایا۔حضور علیہ نے فرمایا کہ اللہ تم دونوں کی آج کی رات میں برکت ڈالے اور اس بچے کا نعم البدل عطاء کرے۔چنانچہ حضور نے کی یہ دعا ان کے حق میں قبول ہوئی اور اُمِ سلیم کی اولاد میں ایسی برکت پڑی کہ دس بیٹے ہوئے اور سب کے سب قرآن کے حافظ تھے۔(11) حضرت ام سلیم کو حضور مال سے بے انتہا محبت تھی۔ایک دفعہ اہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے۔پیاس محسوس ہونے پر بے تکلفی سے اٹھ کر ان کے مشکیزہ سے منہ لگا کر پانی پی لیا۔ام سلیم نے تبرک کی خاطر مشکیزہ کا منہ کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا۔(12) ย ام سلیم حضور ﷺ کے ٹوٹے ہوئے بالوں کو بھی شیشی میں محفوظ کر لیتی تھیں۔اسی طرح حضور ﷺ کا پسینہ بھی اپنے پاس خوشبو کے طور پر رکھتیں۔مگر محتاط اتنی تھیں کہ اپنی وفات سے پہلے وہ وصیت کر گئیں کہ ان چیزوں کو میرے ساتھ دفنا دیا جائے۔(13) 5 ہجری میں حضرت زینب سے حضور ﷺ کی شادی کے موقعہ پر