حضرت سرور سلطان صاحبہ — Page 17
حضرت اُم مظفر 17 یا شافی ! ، یا کافی ! ، کچھ اس سوز اور درد سے کہتیں کہ ان کی یہ دعائیہ آواز آج بھی میرے کانوں میں گونج جاتی ہے۔اماں کی طبیعت میں غصہ بھی تھا لیکن بڑا اوقتی اور سطحی اور ایک لحظہ میں جاتارہتا تھا۔اس سلسلہ میں ایک دلچسپ بات اور شہادت کا بھی ذکر کر دوں جب میری (مرزا مظفر احمد ) شادی کا پیغام گیا تو ہماری بڑی پھوپھی ( حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ) نے حضرت صاحب کے اشارہ پر بی بی (میری بیوی امتہ القیوم ) سے بات کی اور اس طرح شروع کی ، کہ میاں بشیر احمد منجھلے بھائی کے بچوں کی شادیاں بھی اب ہوں گی۔میرے چھوٹے بھائی حمید احمد کے نام سے بات شروع کی تو اس پر بی بی (امتہ القیوم ) بولیں کہ اماں کی سخت طبیعت کے تاثر کی وجہ سے ان کے بچوں کو کون اپنی بیٹی دینے پر راضی ہوگا۔حضرت صاحب کو جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے بی بی کو خط لکھا کہ اماں کی طبیعت میں سختی ضرور ہے لیکن دل کی بہت اچھی ہیں۔اتنے سالوں سے ہمارے ساتھ ہیں ، بڑی پیار کرنے والی ہیں کیا تم سے نہیں کریں گی، ہاں اگر کوئی اور وجہ ہے تو یہ اور بات ہے میں اس معاملہ میں دعا کرؤں گا۔حضرت صاحب کی دعا کا اثر تھا کہ بی بی امتہ القیوم کی طبیعت میں انشراح پیدا ہو گیا۔اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اصل چیز دعا کی برکت ہے