حضرت سرور سلطان صاحبہ — Page 18
حضرت اُم مظفر 18 جس پر والدین کو انحصار رکھنا چاہیئے۔بی بی کہتی ہیں کہ شادی کے بعد یہ حال رہا کہ اماں نے مجھ سے بے حد پیار اور شفقت کا سلوک کیا اور قادیان کے زمانہ تک یہ حالت رہی کہ جب میرے دو چھوٹے بھائیوں کی شادی ہوئی تو ہمارا کمرہ بھی دلہن کی طرح سجایا۔شفقت اور پیار کی بات چلی تو ایک اور واقعہ بھی یہاں لکھ دوں۔اماں کو ساجدہ ( بنت و فیع الزماں خا ان کی پہلی بیوی ) سے بہت پیار تھا۔کئی روز سے اس کی طرف سے کوئی خط یا اطلاع نہ آئی تو طبیعت میں بہت گبھراہٹ پیدا ہوئی۔لملازمہ سے کہا کہ جاؤ اس کی نانی سے جا کر پتہ کرو کیا بات ہے، خیریت سے تو ہے ! ملازمہ کہنے لگی کہ آپ کی بیٹی امتہ المجید (جن سے وقیع الزمان کی شادی ہوئی تھی) کے بیٹی ہوئی ہے۔اسی مصروفیت یا بیماری میں ساجدہ خط نہ لکھ سکی ہو گی۔اماں کہنے لگیں مجھے نوزائیدہ بچی کا اتنا خیال نہیں۔مجھے تو اس جوان جہان کا فکر ہے تم جاؤ اور پتہ کرو غرضیکہ جن سے تعلق ہو، وہ بہت گہرا ہوتا تھا۔“ حضرت مرزا مظفر احمد صاحب فرماتے ہیں :۔”اماں اچانک بیمار ہو کر لاہور آئیں انہی دنوں ایک روز میرا ایک سرکاری دورہ پر ہندوستان جانے کا پروگرام تھا۔دوسرے افسران کی بیگمات کا بھی ساتھ جانے کا