حضرت سرور سلطان صاحبہ

by Other Authors

Page 19 of 33

حضرت سرور سلطان صاحبہ — Page 19

حضرت اُم مظفر 19 پروگرام تھا۔بی بی کا بھی پروگرام بن گیا لیکن اماں کی بیماری کی وجہ سے انہوں نے اپنے جانے کا پروگرام ملتوی کر دیا اور مجھے کہا کہ اماں کو پتہ نہ چلے کہ میں بھی جارہی تھی۔مگر اماں کا اصرار تھا تم بھی جاؤ سیر ہو جائے گی۔بی بی کو اچانک سخت نزلہ ہو گیا تو انہوں نے اماں کو کہا لیں اب تو مجھے زکام و بخار ہو گیا ہے، میں نہیں جاتی ، انہاں نے اس پر چنے کی تھیلیاں بنا کر انہیں گرم کرنے کا اہتمام کیا۔خدا کے فضل سے زکام اور بخار جاتا رہا۔اب نہ جانے کا ایک ہی بہانہ باقی تھا کہ اماں کی طبیعت اچھی نہیں لیکن انہاں نے کہا میرے ساتھ میری ملازمہ آئی ہوئی ہے۔گھر میں دوسرے ملازم بھی ہیں دو چار روز کی بات ہے یہ میرا خیال رکھ لیں گے۔تم ضرور جاؤ ایک پیار اور شفقت کا سلوک تھا کہ دوسروں کی خوشی کی خاطر اپنے آرام کا خیال حائل نہ ہونے دیا۔گھر میں کام کرنے والوں سے بڑی ہمدردی اور مروت کا سلوک کرتی تھیں۔ابا جان کے پاس ان کے کام کے لئے باہر یا بازار وغیرہ بھیجتی تو اگر اندازے سے زیادہ تاخیر ہوتی تو بہت گبھراتی تھیں۔کہ نہ معلوم کہیں کسی حادثہ کا شکار نہ ہو گیا ہولیکن وہ پہنچ جاتا تو سارا بُرا بھلا بھول جاتی تھیں۔اماں کی بیماری میں احمد ولبیا بیا نے آپ کا بہت خیال رکھا۔