حضرت سرور سلطان صاحبہ — Page 20
حضرت اُم مظفر 20 آپ نے بھی اُن کے بچوں کے ساتھ اپنے پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں کی طرح سلوک کرتیں۔مستورات جو بہت با قاعدگی سے آتی تھیں اور جن کا اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ان میں غربا کی کافی تعداد تھی لال پری جو سرحد سے آکر قادیان میں آباد ہو گئی تھیں اور ربوہ کے زمانے میں کافی کمزور اور ضیعف ہوگئی تھیں۔وہ جب آتیں تو واپسی پر بشیر (ملازم) کو کہہ کر ٹا نگا منگوا کر گھر بھجواتیں اور ساتھ کہتیں تم کمزور ہوگئی ہو کم نکلا کرو۔کہیں گر کر چوٹ نہ لگ جائے لیکن جب وہ کچھ روز نظر نہ آتیں تو بشیر کو بھیج کر ہلاتیں اس مروت کا سلوک زندگی بھر رہا۔آپ کی نواسی محترمہ صبیحہ بیگم صاحبہ اہلیہ صاحبزادہ مرزا انور احمد صاحب بھی فرماتی ہیں کہ انہاں پٹھانوں کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتیں اور بہت خیال رکھتیں۔محترم نواب محمود احمد خان صاحب بیان کرتے ہیں: اماں (حضرت ائم مظفر ) کو بچوں سے بے حد پیار تھا لیکن طبیعی طور پرلڑکوں سے لڑکیوں کی نسبت زیادہ پیار کرتی تھیں۔کوشش کے باوجود کے اظہار نہ ہو ، اس امتیاز کی جھلک کبھی کبھی نظر آ جاتی تھی۔مجھے یاد ہے جب میرے ہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے لڑکی شازیہ پیدا ہوئی تو گود میں لے کر