حضرت سُمیّہ ؓ بنتِ خباط، حضرت اُمّ حرام ؓ بنتِ ملحان — Page 7
حضرت ام حرام بنت ملحان صلى 7 اجازت سے جزیرہ قبرص کی فتح کے لئے ایک بحری بیڑہ روانہ کیا۔چونکہ رسول اکرم نے کی یہ حدیث تھی کہ جو اسلامی لشکر پہلی بحری جنگ میں حصہ لے گا جنتی ہو گا۔بہت سے جلیل القدر صحابہ بھی اس لشکر میں شامل ہوئے۔حضرت ام حرام کو راہ خدا میں جہاد کرنے اور رتبہ شہادت پر فائز ہونے کی بے حد تمنا تھی ، اس لئے وہ بھی اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت کے ہمراہ اس لشکر میں شامل ہو کر قبرص گئیں۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کامیابی عطاء کی اور قبرص اسلامی حکومت میں شامل ہوا۔جب مجاہدین اس مہم کی تکمیل کے بعد واپس ہونے لگے تو حضرت ام حرام بھی سواری پر بیٹھنے لگیں۔گھوڑا منہ زور تھا اس نے انہیں زمین پر گرا دیا۔حضرت اُم حرام زخمی ہو گئیں اور انہیں زخموں کی تاب نہ لا کر شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئیں۔یہ واقعہ 28 ہجری کو پیش آیا۔اس طرح حضرت اُمِ حرام پہلے سمندری شہیدوں میں سے تھیں اور وہ پہلی مجاہدہ خاتون تھیں۔بحر ابیض میں پہلی جنگ کرنے والی خاتون اور بحری جنگ میں سب سے پہلی راہ حق میں شہید ہو نے والی صحابیہ کا اعزاز بھی انہیں حاصل تھا۔آپ کو سر زمین قبرص میں دفن کیا گیا۔حضرت اُمِ حرام کی اولاد میں تین لڑکوں کے نام ملتے ہیں۔حضرت عمر و بن قیس انصاری سے حضرت قیس اور حضرت عبد اللہ اور