حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 10
حضرت ام عمارة 10 جہاں تک اُم عمارہ اور ان کے بیٹوں کا بس چلتا یہ مشرکین کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے۔یہ بہت نازک وقت تھا بڑے بڑے بہادروں کے قدم لڑکھڑا گئے۔لیکن یہ شیر دل خاتون کو ہ استقامت بن کر میدان جنگ میں ڈٹی ہوئی تھیں اچانک ہی ایک مشرک نے حضرت ام عمارہ کے سر پر پہنچ کر اپنی تلوار کا وار کیا۔ام عمارہ نے اسے اپنی ڈھال پر روکا اور وہ مشرک بھاگ گیا۔دوبارہ اسی مشرک نے ام عمارہ پر اپنی تلوار کا وار کیا آپ نے اپنی ڈھال پر روکا اور مشرک کے گھوڑے کے پاؤں پر تلوار کا ایسا بھر پور ہاتھ مارا کہ گھوڑا اور سوار دونوں زمین پر گر گئے۔اس وقت الله سرکار دو جہاں عملہ سارا واقعہ دیکھ رہے تھے۔آپ ﷺ نے ام عمارہ کے بیٹے عبداللہ کو پکار کر فرمایا! عبد اللہ اپنی ماں کی مدد کرو۔وہ فوراً ادھر لیکے اور تلوار کے ایک ہی وار سے اس مشرک کو قتل کر دیا۔اُسی وقت ایک اور مشرک تیزی سے ادھر آیا اور حضرت عبداللہ کا بایاں باز وزخمی کرتا ہوا نکل گیا۔حضرت ام عمارہ نے اس وقت اپنے ہاتھ سے عبد اللہ کے زخم پر پٹی باندھی اور کہا ” بیٹے جاؤ اور جب تک دم میں دم ہے لڑو اس وقت حضور علی نے ان کا جذ بہ جا شاری دیکھ کر فرمایا :۔