حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 9
حضرت ام عمارة 9 جرات کو دیکھ کر ان کے لئے دعائیں کرتے رہے۔اور ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔حضرت اُم عمارہ جنہوں نے اس تاریخی جہاد میں حصہ لے کر مسلمان عورت کے مقام کو بلند کیا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں:۔جس وقت اُحد کے مقام پر مسلمانوں میں بھگڈر پڑ گئی اور آنحضرت میلے کے پاس دس آدمی بھی باقی نہ رہے تو میں اور میرا شوہر عربہ بن عمرو اور میرے دو بیٹے عبد اللہ اور حبیب حضور ﷺ کے آگے ہو کر صلى الله دشمن کے غول سے مقابلہ کرتے رہے جب کہ بعض لوگ آپ لے کے صلى الله سامنے ہی بھاگے جاتے تھے۔اسی اثناء میں حضور ﷺ کی نظر اچانک مجھ پر پڑی تو آپ مہ نے دیکھا کہ میرے پاس سپر (ڈھال ) نہیں ہے۔اس لئے آپ ﷺ نے ایک بھاگنے والے سے جس کے پاس سپر تھی یہ صل الله فرمایا کہ ”اے سپر والے! اپنی سپر کسی لڑنے والے کو دیتا جا !“ چنانچہ اس نے بھاگتے بھاگتے اپنی سپر زمین پر ڈال دی میں جھٹ اسے اٹھا کر آنحضرت علیہ کے سامنے روک بن کر کھڑی ہو گئی۔اس وقت مشرک لوگ ہم پر بہت زیا دتیاں کر رہے تھے وجہ یہ تھی کہ وہ سوار تھے اور ہم پیدل۔‘ (9) آنحضرت ﷺ کی جانب گھڑ سوار بار بار حملے کر رہے تھے۔