تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 73

تحفه بغداد ۷۳ اردو تر جمه بحبل الله بجميع قلبنا وجميع دل و جان سے اور اپنی پوری قوت سے اور اپنے پورے اور اور قوتنا وجميع فهمنا وأسلمنا فہم وفراست سے مضبوطی کے ساتھ تھام لیا ہے۔اے الوجة لك ربَّنا فاجعلنا من ہمارے رب ! ہم نے اپنے آپ کو کلیہ تیری سپردگی میں المحسنين۔ربنا أفرغ علينا دے دیا ہے پس تو ہمیں محسنین میں شامل فرما! اے صبرًا على ما نُؤذى وتوفَّنا ہمارے رب !جو تکالیف ہمیں دی جاتی ہے تو ہمیں اس مسلمين۔وما أُفَضِلُ روحى على ير كامل صبر عطا کر اور مسلمان ہونے کی حالت میں ہمیں أرواح إخواني ولكن الله قد من وفات دے۔میں اپنی روح کو اپنے بھائیوں کی روحوں پر على وجعلني من المنعمين فمن فضیلت نہیں دیتا۔ہاں اللہ نے مجھ پر احسان فرمایا اور آلائه أنه أنعم على بالمكالمات مجھے انعام یافتہ لوگوں میں سے بنایا۔پس اس کے والمخاطبات و علمنى من أسرار احسانوں میں سے یہ ہے کہ اس نے مجھ پر مکالمات و ما كنت أن أعلمها لولا أن مخاطبات کا انعام فرمایا اور ایسے ایسے اسرار کا علم عطا کیا کہ يعلمني الله وجعلني للأنبياء من اگر خوداللہ ان (اسرار) کا مجھے علم عطانہ کرتا تو مجھے بھی ان الوارثين۔ومن آلائه على أنه كا علم نہیں ہوسکتا تھا۔اور اسی نے مجھے انبیاء کا وارث وجد قوم النصارى يفسدون بنایا۔نیز یہ بھی اس کا مجھ پر احسان ہے کہ (جب) اُس في الأرض ويتخذون العبد نے نصاریٰ کی قوم کوزمین میں فساد کرتے ہوئے اور ایک إلها بغير الحق ويُضلّون عباد عاجز بندے کو ناحق خدا بنا کر اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتے الله فبعثنی لاکسر صليبهم ہوئے پایا تو اُس نے اُن کی صلیبوں کو توڑنے اور ان وأمزق بعيدهم وقريبهم کے دور و نزدیک کے لوگوں کو پارہ پارہ کرنے اور مجرموں وأجد هام المجرمين۔کی کھوپڑیاں توڑنے کے لئے مجھے مبعوث فرمایا۔و من آلائه أنه آتـانـی آیات اور اُس کے منجملہ احسانات میں سے یہ بھی ہے LL