تحفہٴ بغداد — Page 74
تحفه بغداد ۷۴ اردو تر جمه من السماء وأتم الحجة کہ اُس نے مجھے آسمانی نشانات دیئے اور دشمنوں على الأعداء وخجل کل پر حجت تمام کی اور (یوں) ہر بخیل اور کنجوس کو بخيل وضنين فوعزته شرمندہ کیا۔پس اُس کی عزت اور جلال کی قسم ! وجـلالــه إلـى عـلـى حق مبين يقينا میں واضح حق پر ہوں۔اور اگر تو متلاشیان حق وترى كالوابل آیاتِ صدقی کی طرح میری مصاحبت اختیار کرے تو تو میری إن تصاحبني کالطالبین سچائی کے نشان موسلا دھار بارش کی طرح دیکھے ووالله ثم تالله إن جاء نی گا۔بخدا ہاں بخدا۔اگر کوئی شخص صدق نیت اور أحـد عــلــى قــدم الــصــدق طلب حق کی راہ سے میرے پاس آئے تو وہ والطلب لرأى شيئا من آیات چالیس دن تک میرے رب کے نشانوں میں سے ربى إلى أربعين۔وأكفَرَني کوئی نشان ضرور دیکھ لے گا۔افسوس حاسدوں الحسـداء قبل أن يبارونی نے میری تکفیر کی قبل اس کے کہ مقابلے کے لئے للنضال ويتوازنوا في الکمال میدان میں اترتے اور کمال میں میرا مقابلہ کرتے ويتحاذوا في الفعال و عیرونی اور اچھے افعال میں میری برابری کرتے مگر انہوں طاغين ولما رأوا الآیات نے سرکشی کرتے ہوئے میری عیب چینی کی۔اور قالوا إن هذا إلا سحر مبين جب انہوں نے نشانات دیکھے تو کہنے لگے کہ یہ أو جَفْرٌ ونجوم فمشوا خبط تو کھلم کھلا جادو یا علم جفر و نجوم ہے۔پھر و وہ عشواء وكانوا قوما عمین بے سوچے سمجھے اندھا دھند چلنے لگے اور فی الواقعہ أشرقت الشمس وما كان وہ اندھے لوگ ہیں۔سورج اپنی پوری تابانی سے ا غيم ولكن لا ينفع چکا اور اُس کے ساتھ کوئی بادل نہ تھا۔لیکن اندھوں نور ولا ضوء کو نہ تو کوئی نُور فائدہ دے سکتا ہے اور نہ کوئی روشنی۔ی ۷۸