تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 1 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 1

تحفه بغداد اردو تر جمه بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ الحمد لله والسلام على عباده تمام تر تعریف اللہ کے لئے ہے اور سلامتی الذين اصطفى، وبعد ہو اُس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے منتخب فإني رأيت في هذه الأيام کیا۔حمد وسلام) کے بعد واضح ہو کہ ان اشتهارا ومكتوبا أرسل إلى دنوں ایک اشتہار اور ایک مکتوب میری نظر السيد عبد الرزاق القادری سے گزرا جسے سید عبدالرزاق قادری بغدادی البغدادى من حیدر آباد دکن نے حیدر آباد دکن سے مجھے ارسال کیا۔جب فلما قرأت الاشتهار إذا هو میں نے وہ اشتہار پڑھا تو وہ ایک ایسے مومن من أخ مؤمن يخوفني كما بھائی کی طرف سے تھا جو مجھے یوں ڈرا دھمکا يخوّف الملک المقتدر رہا ہے جیسے کوئی بہت طاقتور بادشاہ کسی مرند المرتد الكافر الفجار کافر اور فاجر کو دھمکا رہا ہو۔اور میرے قتل ويسل لقتلى السيف البتار کے لئے شمشیر براں سونت رہا ہو اور اس نے وقـد صـال عــلــی کــرجـل مجھ پر ایسا حملہ کیا ہے جیسے کوئی شخص دوسرے يهجم على رجل فزفر زفرة شخص پر ٹوٹ پڑے۔وہ آتش غضب - القيظ وكاد يتميّز من الغيظ بھڑک اٹھا اور قریب تھا کہ شدتِ غیظ سے ونظر إلى كـالـمـحـملقين۔پھٹ پڑے اور اس نے مجھے تیکھی نظر سے ورأيت أنه ما مس وسائل دیکھا اور میں نے پایا کہ ا اسے وسائل العرفان و مــا دنـا أواصر عرفان سے کوئی مس نہیں اور نہ تحقیق بیان