تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 2

تحفه بغداد اردو تر جمه تحقيق البیان و کفرنی سے کوئی واسطہ ہے۔اس نے میری تکفیر کی، وسبني وحسبنى من الذين مجھے گالیاں دیں اور مجھے کافروں اور مرتدوں كفروا أو ارتدوا فأراد میں سے گمان کیا۔اس طرح اس نے چاہا کہ وہ أن يكون أوّل اللاعنين لعنت کرنے والوں قتل کرنے والوں میں سے والقاتلين۔وإنه قد فتن پہلے ہو۔اس نے بعض لوگوں کے دلوں کو فتنے قلوب بعض الناس وأدناهم میں ڈالا اور انہیں شیطان کے شر کے قریب کر شر الوسواس فسنح دیا۔تب میرے لئے یہ تقریب پیدا ہوئی کہ ى أن أكتب فى هذہ میں اس رسالہ میں وہ باتیں لکھوں جو اس کے الرسالة ما ينفعه وينفع لئے بھی اور حرمین میں بسنے والے عربوں کے عرب الحرمین ویست لئے بھی مفید ہوں اور ناظرین کو خوش کر یں۔الناظرين۔فالآن نكتب سوا اب ہم ابتداء میں اس کا اشتہار اور اس کا أولا اشتهاره و مکتوبه ثم مکتوب درج کرتے ہیں۔پھر اس کا جواب نکتب جوابه و نهذب تحریر کریں گے اور اس کے اسلوب کی اصلاح أسلوبه۔فأيها القاری کریں گے۔سواے قاری! اللہ تجھے نیکی اور انظر فيه بنظر الوداد راست روی میں بڑھائے تو اس ( رسالے ) کو زادک الله فی الصلاح محبت کی نگاہ سے دیکھ ! اور جو تجھے دیا جا رہا ہے وہ والسداد وهنيت بما أُوتيت تجھے مبارک ہو اور جو تجھے عطیہ کیا جا رہا ہے اس ومُلّيتَ بما أُولِيتَ وما توفیقی سے متمتع ہو اور میری جو بھی توفیق ہے وہ اللہ کی إلا بالله النصير المعين۔مرہون منت ہے جو بہترین معین و مددگار ہے۔