تحفہٴ بغداد — Page 30
تحفه بغداد اردو تر جمه أعطى من الإنعامات للمرسلين بھی وہ انعامات دیئے جائیں جو اس نے مرسلوں کو وقد بشرنا عزّ اسمه بعطاء عطا کئے۔اللہ عَزَّ اسمہ نے ہمیں اُن انعامات إنعامات أنعم على الأنبياء کے دیئے جانے کی بشارت دی ہے جو اس نے ہم والرسل من قبلنا وجعلنا لهم سے پہلے انبیاء اور رسولوں پر انعام کئے اور اُس نے وارثين۔فكيف نكفر بهذه ہمیں اُن (رسولوں) کا وارث بنایا۔پھر ہم ان المخيبين؟ الإنعامات ونكون كقوم عمين؟ انعامات کا کیسے انکار کر سکتے ہیں؟ اور ہم وكيف يمكن أن يُخلف الله اندھے لوگوں کی طرح ہو جائیں؟ اور یہ کیسے ممکن مواعيده بعد توكيدها ويجعلنا من ہے کہ اللہ اپنے وعدوں کو مؤکد کرنے کے بعد وعدہ خلافی کرے اور ہمیں خائب و خاسر بنادے۔أنت تـعـلـم يـا أخي أن سراة اے میرے بھائی! تو جانتا ہے کہ منعم علیہ الـمـنـعـمـيــن عليهم هم الأنبیاء گروہ کے سردار انبیاء اور رسل ہی ہیں اور اللہ والرسل وقد بشرنا الله بعطاء نے ان کی ہدایت اور ان کی سی کامل بصیرت هداهم وبصيرتهم الكاملة التي عطا کئے جانے کی ہمیں بشارت دی ہے جو لا تحصل إلا بعد مكالمة الله صرف اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے اور اس تعالى أو رؤية آياته عفا الله کے نشانات دیکھنے کے بعد ہی حاصل ہوتی عنک کیف زعمت أن أولياء ہے۔اللہ تجھے معاف فرمائے ، تو نے یہ کیسے الله محرومون من مكالمة الله سمجھ لیا کہ اللہ کے اولیاء مکالمات و مخاطبات ومخاطباته وليسوا من الہیہ سے محروم ہوتے ہیں اور ( اللہ ) اُن سے ہمکلام نہیں ہوتا ؟ المكلمين؟ يا أخــى أنـت تـعـلـم أن كتب اے میرے بھائی! تو جانتا ہے کہ امت مسلمہ القوم مملوة من ذكر مکالمات کی کتابیں، اللہ کے اپنے اولیاء سے مکالمات اور الله بأوليائه ومخاطبات حضرة حق تعالیٰ کے اپنے مقرب بندوں کے ساتھ ۳۴