تحفہٴ بغداد — Page 29
تحفه بغداد ۲۹ اردو تر جمه نبينا ورسولنا صلى الله علیه نے کس طرح بشارت دی اور فرمایا کہ : آپ وسلم وقال: إنه سيكون في کی امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو نبی نہ أمته قوم يكلمون من غير ہوتے ہوئے بھی شرف مکالمہ پائیں گے اور وہ أن يكونوا أنبياء ويُسمون محدث کہلائیں گے۔نیز اللہ جل شانہ نے محدثين۔وقال الله جل شأنه ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ۔وَثُلَّةٌ مِنَ فرمایا: ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ۔وحثَّ عباده على دعاء الْآخِرِينَ کے نیز اس نے اپنے بندوں کو اهْدِنَا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ الصَّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهم نے کی دعا کی ترغیب دی عَلَيْهِم فما معنى الدعاء لو كُنا ( بتاؤ ) اگر ہم نے محروم ہی رہنا تھا تو پھر اس من المحرومين؟ وأنت تعلم أن دعا کا کیا مطلب؟ تو جانتا ہے کہ جن پر اللہ الذين أنعم الله عليهم أولاهم۔الأنبياء والرسل وما كان الإنعام نے اول طور پر انعام فرمایا وہ نبی اور رسول ہی ہیں۔اور یہ انعام از فتم درہم و دینار من قسم درهم و ديـنـــار بل من نہیں بلکہ علوم و معارف اور برکات و انوار قسم علوم و معارف ونزول بركات وأنوار كما تقرر عند کے نزول کی طرح کا انعام ہے۔جیسا کہ عارفوں کے ہاں مسلم ہے۔العارفين۔وإذا أُمــرنـا بهــذه الدعاء في اور جب ہر نماز میں یہ دعا کرنے کا ہمیں حکم كل صلاة فما أَمَرَنا ربُّنا إلا ہے تو ہمارے رب نے ہمیں یہ حکم صرف اس لئے ليستجاب دعاؤنا ونُعطی ما دیا ہے تا کہ ہماری یہ دعا قبول کی جائے اور ہمیں لے پہلوں میں سے ایک بڑی جماعت ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت ہے۔(الواقعۃ :۴۱،۴۰) ہمیں سیدھے راستہ پر چلا ان لوگوں کے راستہ پر جن پر تو نے انعام کیا۔(الفاتحة :۷،۶) ۳۳