تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 16 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 16

تحفه بغداد ۱۶ اردو تر جمه کے بارے میں کوئی شک نہ رہا۔بالله وآياته مؤمنين۔وقد ختم الله برسولنا النبيين اللہ نے ہمارے رسول کے ذریعہ نبیوں کو وقد انقطع وحی النبوة فكيف ختم کر دیا اور وحی نبوت منقطع ہو گئی۔تو پھر مسیح يجيء المسيح ولا نبی بعد کیسے آسکتا ہے جبکہ ہمارے رسول (ﷺ) رسولنا؟ أيجيء معطَّلا من النبوة کے بعد کوئی نبی نہیں ؟ کیا وہ معزول لوگوں کی كالمعزولين؟ وقد بشرنا رسول طرح نبوت سے معطل ہو کر آئے گا ؟ جبکہ الله صلى الله علیه وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بشارت أن المسيح الأتى يظهر من دی ہے کہ آنے والا مسیح آپ کی امت سے أمته وهو أحد من المسلمين۔ظاہر ہوگا اور وہ مسلمانوں کا ایک فرد ہو گا اور وفي الصحاح أحاديث صحيحة صحاح ستہ ) میں ایسی صحیح، مرفوع متصل مرفوعة متصلة شاهدة على وفاة احاديث ہیں جو عیسی علیہ السلام کی وفات کی عیسی علیه السلام خصوصا فی گواہی دیتی ہیں ، خصوصا صحیح بخاری میں اس امر البخارى بیان مصرح في هذا كے متعلق واضح بیان موجود ہے۔اس لئے ایسے الأمر۔فالعجب كل العجب على شخص کے فہم پر بے حد تعجب ہوتا ہے۔جو اللہ کی فهم رجل يشك في وفاته بعد کتاب اور اس کے رسول کے ارشاد کے بعد كتاب الله ورسوله و يتذبذب بھی مسیح کی وفات پر شک کرتا ہے اور شکی لوگوں كالمرتابين۔و بای حدیث بعد کی طرح تر ڈ دکرتا ہے۔اللہ اور اُس کی آیات الله وآياته نترک متواترات کے بعد کس حدیث کی بناء پر ہم قرآنی القرآن؟ أنوثر الشك على متواترات کو ترک کر سکتے ہیں؟ کیا ہم شک کو یقین پر ترجیح دیں؟ والقوم لا يتفق على صعود مسیح کے زندہ آسمان پر چلے جانے پر سب اليقين؟ المسيح حيًّا إلى السماء بل لهم لوگ متفق نہیں ہیں۔بلکہ ان کی آراء مختلف