تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 12

تحفه بغداد ۱۲ اردو تر جمه تستفسر منى كداب المحققین کرنے سے پہلے ہی تم نے مجھے ملامت کی اور والعجب منک و من مثلک مجھ پر تیر برسا دیئے۔تم پر اور تمہارے جیسے مردِ رجل صالح تقی نقی حلیم كريم صالح متقی ، پاک وصاف اور حلیم و کریم پر تعجب أنك تكتب فى اشتهارک آن ہوتا ہے کہ تم اپنے اشتہار میں لکھتے ہو کہ اس جزاء هذا الرجل المرتد أن يُقتل مرتد شخص کی سزا یہ ہے کہ یا تو اسے شمشیر براں بالسيف البتار أو يُلقى في النار سے قتل کر دیا جائے یا اسے آگ میں ڈال دیا كما هو جزاء المرتدين۔جائے جیسا کہ مرتدوں کی سزا ہوتی ہے۔أيها الأخ الصالح أسرك الله اے نیک بھائی ! اللہ تجھے خوش رکھے۔تیری نگہبانی ورعاک و حفظک و حماک فرمائے ، تیری حفاظت و حمایت فرمائے ، تیری وفتـــح عينك وهــــداك لا آنکھیں کھولے اور تجھے ہدایت دے۔تو نہ تو مجھے تخوفني من سيف بتار ولا رمح شمشیر قاطع سے ڈرا اور نہ کسی نیزے سے اور نہ ولا نار وقد قتلنا قبل سیفک آگ سے۔ہم تو تیری تلوار سے پہلے ہی ایک ایسی بسيف لا تعلمه وذقنا طعم تلوار کے قتل ہیں جسے تو نہیں جانتا۔اور ہم نے نار لا تعرفها وإنا إن شاء الله اس آگ کا مزہ چکھا ہے جس سے تو نا آشنا ہے۔ہمیں انشاء اللہ اس کے بعد انعامات سے سرفراز کیا بعد ذلک من المنعمين۔أيها العزيز إن الذين أخلصوا قلوبهم جائے گا۔عزیز من! ایسے لوگ جنہوں نے اپنے لله وأسلموا وجوههم لله دلوں کو اللہ کے لئے خالص کر لیا ہو اور اللہ کے وشربوا كأسا من حُبّ الله فلا سامنے سرتسلیم خم کر چکے ہوں اور اللہ کی محبت کا جام نوش کر چکے ہوں ، انہیں اُن کا پروردگار اللہ ضائع يضيعهم الله ربّهم ولا يتركهم نہیں کرتا اور نہ ان کا مولا انہیں چھوڑتا ہے خواہ ا مولاهـم ولـو عــاداهم كل ورق الأشجار وكل قطرة البحار وكل درختوں کا ہر پتہ ،سمندروں کا ہر قطرہ ، پتھروں کا ہر ذرہ ، اور دنیا جہاں کی ہر چیز ان کی دشمنی پر ذرة الأحــــــــجـــار وكلّ ما في ۱۶