تحفہٴ بغداد — Page 11
تحفه بغداد اردو تر جمه المكفّرين المطرودين کافر قرار دیئے گئے ، دھتکارے گئے اور المهجورين۔جنہیں الگ تھلگ کر دیا گیا۔وبعد فإنه قد بلغني اما بعداے میرے بھائی ! تمہارا خط اور اشتہار مکتوبک و اشتهارک یا اخی مجھے اپنی بستی قادیان میں مل گئے ہیں۔جس کے بقریتی ”قادیان فاشکرک لئے میں تمہارا شکر گزار ہوں اور تمہارے لئے دعا وأدعو لك فإنک ذکر تنی کرتا ہوں کیونکہ تم نے مجھے نصیحت کی اور مجھے وہ وذاكرتنى سُبُلا تحسبها را ہیں یاد دلائیں جنہیں تم راست خیال کرتے مستقيمة ولُمُتَنى غيرةً علی دین ہو۔نیز تم نے اللہ اور اس کے رسول کے دین الله ورسوله كالمغضبین کے لئے غیرت کرتے ہوئے غضبناک لوگوں کی فجزاک الله أحسن الجزاء طرح مجھے ہدف ملامت بنایا فجزاک الله وأحسن إليك وهو خير احسن الجزاء وہ تجھ پر احسان فرمائے۔اور المحسنين۔وأرى انك رجل وہ احسان کرنے والوں میں سے سب سے بہتر صالح طيب فإنك ما صبرت ہے۔میری رائے ہے کہ تم صالح اور اچھے انسان ہو علی ما حاک فی صدرک و لم اس لئے تم اپنے سینے کی خلش اور چھن کو برداشت تألُ نُصحا ولم تداهن قولا نہ کر سکے اور تم نے نصیحت کرنے میں کوئی کوتاہی نہ و کذلک سِير الصالحين۔ولكن کی اور نہ قولاً کوئی مداہنت اختیار کی اور یہی نیک أيها الخِلُّ الودود والحِبُّ لوگوں کا طریق ہے۔لیکن اے پیارے دوست المودود عفا الله عنك قد اور محبوب رفیق ! ( اللہ تمہیں معاف فرمائے ) تم نے استعجلت وحسبت أخاک جلد بازی سے کام لیا اور تم نے اللہ اور اس کے رسول المؤمن بالله ورسوله و کتابه اور اس کی کتاب پر ایمان لانے والے اپنیبھائی کو مرتدا ومن الكافرين۔ولو متنى مرتد اور کافر خیال کیا اور حقیقت الامر کی چھان بین ورميتني بالسهام قبل أن تُفتِّش کرنے ، کلام کے راز کو سمجھنے یا محققین کا طریق حقيقة الأمر وتفهم سرّ الكلام أو اختیار کرنے والوں کی طرح مجھ سے استفسار ۱۵