تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 62

تحفه بغداد ۶۲ اردو تر جمه (۲۵) وأنا معك۔سرک سری ہے اور میں تیرے ساتھ۔تیرا بھید میرا بھید ہے۔لا تحاط أسرار الأولياء إنک اولیاء کے اسرار کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔تو کھلے على حق مبين۔وجيها في الدنيا كھلے حق پر ہے۔دنیا اور آخرت میں وجیہ اور والآخرة ومن المقربين۔لا يصدق مقربین میں سے ہے۔نادان آدمی ہلاکت کی مارکو السفيه إلا ضربة الإهلاك۔ہی مانتا ہے وہ میرا بھی دشمن ہے اور تیرا بھی۔وہ عدو لی و عدو لک عجل صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے جسد له خوار۔قل أتى أمر الله ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے۔کہ اللہ کا حکم آیا سمجھو، فلا تكن من المستعجلین۔یأتیک اس لئے تم جلد بازی نہ کرو۔تیرے پاس نبیوں کا قمر الأنبياء و أمرك يتأتى چاند آئے گا اور تیرا کام سہل طور پر حاصل ہو جائے وكان حقا علينا نصر المؤمنين۔گا اور مومنوں کی مدد کرنا ہمارے ذمہ ہو چکا ہے۔يـوم يـجــيء الحق وينكشف اس دن حق آئے گا اور سچائی کھل جائے گی اور نقصان اٹھانے والے نقصان اٹھائیں گے۔اور تم ان غافلوں کو دیکھو گے کہ وہ سجدہ گاہوں پر گر کر کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں بخش کہ ہم خطا کار المساجد ربنا اغفر لنا إنا كنا تھے۔(انہیں کہا جائے گا ) آج تم پر کوئی سرزنش خاطئين۔لا تثريب عليكم اليوم نہیں اللہ تمہیں بخش دے گا اور وہ سب سے بڑھ کر يغفر الله لـكـم وهـو أرحم رحم کرنے والا ہے۔تو اس حالت میں وفات پائے الراحمين۔تموت و أنا راض گا کہ میں تجھ سے راضی ہوں گا۔تمہارے لئے منک۔سلام علیکم طبتم سلامتی ہے اور خوشحالی ہے۔پس تم اس میں امن کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔۳۰ جولائی ۱۸۹۳ء الصدق ويخسر الخاسرون۔وترى الغافلين يخرّون على فادخلوها آمنين۔“ ۶۶