تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 58 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 58

تحفه بغداد ۵۸ اردو تر جمه آية من آياتنا في الثيبة ونردّها آنے والے عذاب سے ڈرا۔ہم انہیں اس بیوہ کے إليك أمر من لدنا إنا كنا متعلق بھی اپنا ایک نشان دکھائیں گے اور اسے تیری فاعلين۔إنهم كانوا يكذبون طرف لوٹائیں گے۔یہ امر ہماری جناب سے مقدر ہو چکا بآیاتی و کانوا بی من ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔یہ لوگ میرے لمستهزئین۔فبشری لک نشانوں کو جھٹلاتے تھے اور مجھ پر تمسخر کرتے تھے۔پس في النكاح الحق من ربك فلا تجھے نکاح کے متعلق بشارت ہو۔یہ بات تیرے رب تكونن من الممترين۔إنا کی طرف سے حق ہے۔پس تو شک کرنے والوں میں جناگهالا مبدل لكلمات سے مت ہو۔ہم نے اس کو تیرے ساتھ ملا دیا له وإنا رادوها إليك إن ہے۔اللہ تعالیٰ کی باتیں ٹل نہیں سکتیں اور ہم اسے بقية الحاشية عن عمرو بن الحارث بقیہ حاشیہ۔کہ ایک جمعہ کے دن (حضرت) عمر خطبہ قال: بينما عمر يخطب يوم الجمعة ارشاد فرمارہے تھے کہ یکدم خطبہ روک کر دو یا تین دفعہ یا إذا تـــرك الــخـطــبــة ونادى سارية الجبل (اے ساریہ پہاڑ کی طرف) پکارا اور پھر يا سارية الجبل مرتين أو ثلاثا ثم سے خطبہ دینے لگے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ۲۲ أقبل على خطبة۔فقال ناس من صحابہ میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ (عمر) دیوانہ ہے۔أصحاب رسول الله صلی اللہ علیہ کہ خطبہ چھوڑ کر یا سارية الجبل کہہ رہے ہیں۔وسلم: إنه لمجنون ترك خطبة ازاں بعد عبد الرحمن بن عوف آپ ( یعنی حضرت عمر) کی ونادى يا سارية الجبل۔فدخل خدمت میں حاضر ہوئے اور بے تکلف آپ سے عرض کی عليه عبد الرحمن بن عوف و کان کہ اے امیر المومنین! آپ نے اپنے خلاف لوگوں کو ينبسط عليه فقال: يا أمیر باتیں بنانے کا موقعہ دیا ہے۔(اس لئے کہ) آپ نے المؤمنين تجعل للناس علیک اپنے خطبہ کے درمیان بآواز بلند یا سارية الجبل کے مقالا؟ بينما أنت في خطبتك الفاظ کہے۔یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ۶۲