تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 54

تحفه بغداد ۵۴ اردو تر جمه مناديا ينادي للإیمان ربنا آمنا ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز سنی جو فاكتبنا مع الشاهدین شأنک ایمان کی طرف بلاتا ہے۔اے ہمارے رب! ہم عجيب و أجرك قریب و معک ایمان لائے۔پس ہمیں بھی گواہوں میں لکھ۔تیری شان جند السماوات والأرضين عجیب ہے اور تیرا اجر قریب ہے اور آسمانوں اور أنت منی بمنزلة توحیدی زمینوں کی ایک فوج تیرے ساتھ ہے۔تو مجھ سے ایسا وتفريدى فحان أن تُعانَ وتُعرَف ہے جیسا کہ میری تو حید اور تفرید۔پس وہ وقت آتا بين الناس۔بورکت یا احمد ہے کہ تو مدد دیا جائے گا اور دنیا میں مشہور کیا جائے وكان ما بارک اللہ فیک گا۔اے احمد ! تو برکت دیا گیا اور جو کچھ اللہ نے حقا فيك أنت وجية في تجھے برکت دی وہ تیرا ہی حق تھا۔تو میری درگاہ " بقية الحاشية كتبـنـاه بتلخيص منا بقیه حاشیہ - جناب جلالت مآب قطب دوران اور فارجع إلى كتابه: فتوح الغيب امام زمان رضی اللہ عنہ کا کلام ختم ہوا۔ہم نے یہاں جو إن كنت من المرتابين۔وقد ظهر لکھا ہے وہ ہماری طرف سے ان کے (فرمودات ) کا من كلام الإمام الموصوف آن صرف خلاصہ ہے۔اس لئے اگر تمہیں کوئی شک وشبہ ہو الوحي كما ينزل على الأنبياء تو ان کی کتاب "فتوح الغیب “ کی طرف رجوع کذلک ینزل على الأولياء ولا کریں۔امام موصوف ( حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی) فرق في نزول الوحی بین ان کے کلام سے یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ جس طرح انبیاء پر وحی يكون إلى نبى أو ولي ولكل نازل ہوتی ہے ویسے ہی اولیاء پر بھی نازل ہوتی ہے حظ من مكالمات اللہ تعالٰی اور نزول وحی میں کوئی فرق نہیں خواہ نبی کی طرف ہو یا ومخاطباته على حسب المدارج ولی کی جانب۔ان میں سے ہر ایک کو اللہ کے نـعـم لـوحـى الأنـبـيـاء شأن أتم مكالمات و مخاطبات سے حسب مدارج حصہ ملتا ہے۔۵۸