تحفہٴ بغداد — Page 51
تحفه بغداد ۵۱ اردو تر جمه أنتم مسلمون إن معى ربی گواہی ہے پس کیا تم قبول کرو گے یا نہیں؟ میرے ساتھ میرا رب ہے عنقریب وہ میرا راہ کھول دے گا۔سيهدين۔الموتى۔رب أرنى كيف تحيــــى اے میرے رب ! مجھے دکھلا کہ تو کیونکر کر دوں رب اغفر وارحم کو زندہ کرتا ہے۔اے میرے رب ! مغفرت فرما من السماء۔رب لا تذرنی اور آسمان سے رحم کر۔اے میرے رب ! مجھے اکیلا فردًا وأنت خير الوارثين مت چھوڑ اور تو خیر الوارثین ہے۔اے میرے أصْلِحُ أمة محمد ربّ! امتِ محمدیہ کی اصلاح کر۔اے ہمارے رب م ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق ربّ! ہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر دے وأنت خير الفاتحین اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے اور بقية الحاشية الوقت المقدَّر لهم بقیه حاشیه - ثبات بخشنے کی وجہ سے ہوا اور یہی ان من أرحم الراحمين۔وقال الله کے لئے ارحم الراحمین خدا کی طرف سے وقتِ مقدر تعالى في بعض كتبه: یابن آدم أنا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی کتاب میں فرمایا ہے۔کہ الله لا إله إلا أنا۔أقول لشيء : كُن اے ابن آدم ! میں اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی معبود فيكون أطِعُني أجعلك تقول نہیں (جب میں کسی شے کے متعلق کہتا ہوں کہ ہو جا، تو للشيء : كن فيكون۔قد جعل اللہ وہ ہونے لگتی ہے اور ہو کر رہتی ہے۔تو میری اطاعت (۲۰) أولياء ه أوتاد الأرض وجعل الدنيا کر۔میں تجھے بھی ایسا بنادوں گا کہ (اگر ) تو کسی لهم جنة المأوى فلهم جنّتان شے کے متعلق یہ کہے گا کہ ہو جا تو وہ ہونے لگے گی۔الدنيا والآخرة۔وهم كالجبل الذی اللہ نے فی الواقعہ اپنے اولیاء کو زمین کے لئے بطور پہاڑ رسا و تفردوا فی الصدق والوفاء اور برج بنایا ہے اور دنیا کو ان کے لئے جَنَّةُ الْمَأْوَى والتقوى فتنع عن طريقهم ولا بنا دیا ہے۔اُن کے لئے دو جنتیں ہیں۔دنیا اور تزاحم يا مسكين۔الرجال الذين ما آخرت۔اور وہ اُس پہاڑ کی مانند ہیں جو زمین میں