تحفہٴ بغداد — Page 52
تحفه بغداد ۵۲ اردو تر جمه ويخوفونک مِن دونه انک اللہ کے سوا تجھے اوروں سے ڈراتے ہیں۔تو بأعيننا۔سمّيتك المتوكل۔ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔میں نے تیرا یحمدك الله من عرشه نام متوکل رکھا۔خدا عرش سے تیری تعریف کر نحمدک و نصلی۔یا أحمد يتم رہا ہے۔ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرے اسمک ولا يتم اسمی۔کن فی پر درود بھیجتے ہیں۔اے احمد! تیرا نام پورا ہو الدنيا كأنک غریب او عابر جائے گا اور میرا نام پورا نہیں ہو گا۔تو دنیا میں سبيل وكن من الصالحین ایسے طور پر رہ کہ گویا تو ایک غریب الوطن بلکہ الصديقين۔أنا اخترتک ایک راہرو ہے اور صالح اور راستبا زلوگوں میں وألقيت عليك محبة منى سے ہو۔میں نے تجھے چن لیا اور اپنی محبت خذوا التوحيد التوحید تیرے پر ڈال دی۔تو حید کو پکڑو۔تو حید کو پکڑ و بقية الحاشية۔قيدهم أحد عن قصد بقیه حاشیه - محکم گڑا ہو، وہ (اولیاء ) صدق و وفا اور الحق من الآباء والأمهات والبنات تقویٰ میں منفرد ہو گئے۔لہذا بہتر یہی ہے کہ ) اے والبنين فهم خيرُ من خلَق ربّى وبَثَّ مسکین ! تو ان کے راستے سے ہٹ جا۔اور مزاحمت نہ في الأرض و ذرأ فعليهم سلام الله کر۔یہ اولیاء) وہ لوگ ہیں کہ (ان کے ) باپوں، وتــحـيـاتـه وبـركـاتـه أجمعين۔أيها ماؤں، بیٹیوں اور بیٹوں میں سے کوئی بھی انہیں السالك! إذا قوى علمک و قصدِحق سے روک نہ سکا۔اس لئے یہ لوگ میرے یقینک و شرح صدرک وقوی رب نے جو پیدا کیا اور زمین میں پھیلایا اُس میں سے نور قلبک وزاد قربک من بہترین مخلوق ہیں۔پس اُن سب پر اللہ کی سلامتی اور اُس مولاک و مکانك لديه و أمانتک کی عنایات و برکات نازل ہوں۔اے سالک راہ! عنده وأهليتك لحفظ الأسرار جب تیرا علم اور تیرا یقین مضبوط اور تجھے شرح صدر عطا فعلمت من لدنه و یا تیک قسمک ہو جائے گا اور جب تیرا نور قلب قوی ہو جائے اور ۵۶