تحفہٴ بغداد — Page 50
تحفه بغداد اردو تر جمه الرحمن لخليفة الله السلطان جس کی بادشاہت آسمانی ہے۔پس اللہ پر توکل کر۔وگل علی الله واصنَعِ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی الفُلْكَ بأعيننا ووحينا إن بنا جو تيرى بيعت کرتے ہیں وہ تیری نہیں بلکہ خدا کی الذین یبایعونک إنما يبايعون بیعت کرتے ہیں۔اللہ کا ہاتھ اُن کے ہاتھوں پر الله يد الله فوق أيديهم وأمم ہوتا ہے۔اور کئی گروہ ایسے ہیں جن پر عذاب حَقَّ عليهم العذاب۔ويمكرون واجب ہو چکا اور وہ تدبیریں کر رہے ہیں اور اللہ والله خير الماكرين۔قُل عندى تعالیٰ سب سے بہتر تد بیر کرنے والا ہے۔ان کو کہہ شهادة من الله فهل أنتم مؤمنون کہ میرے پاس خدا کی گواہی ہے پس کیا تم ایمان قل عندى شهادة من الله فهل لاؤ گے یا نہیں ؟ پھر ان کو کہہ کہ میرے پاس خدا کی بقية الحاشية وشهوات وظيفية بقيه حاشیہ۔ظہور پذیر ہو جاتی ہیں جن سے وہ بالکل وكانوا من المبدلين۔ويُكشف بدل جاتے ہیں اور اللہ کے افعال اولیاء اور ابدال پر للأولياء والأبدال من أفعال الله ما کچھ اس طرح منکشف ہوتے ہیں جو عقلوں کو دنگ کر يبهر العقول ويخرق العادات دیتے ہیں اور وہ خارق عادت وسنت ہوتے ہیں اور والرسوم ويكلمهم الله تعالی اللہ تعالیٰ ان سے پُر لطف کلام اور محبت بھری باتیں کرتا بالكلام اللذيذ و الحديث الأنيس ہے اور انہیں عظیم عطا یا اور مراتب عالیہ اور اپنے قرب والبشارة بالمواهب الجسام کی ایسی بشارت دیتا ہے کہ جس سے ان کا ہر معاملہ والمنازل العالية والقرب منه مما الله کی طرف پلٹ جاتا ہے۔گزشتہ زمانوں میں ان سيؤول أمرهم إليه وجفَّ به القلم جیسے عالی مقام بزرگوں کے کار ہائے نمایاں ) کا اتنا من أقسامهم فی سابق الدهور تذکرہ ہے کہ جس کے بیان سے قلم ( کی سیاہی) فضلا منه ورحمة وإثباتًا منه لهم خشک ہو گئی اور (یہ سب کچھ ) اللہ کے فضل و رحم اور في الدنيا إلى بلوغ الأجل وهو اس كى طرف سے انہیں (جریدہ عالم میں ) تادمِ آخر ۵۴