تحفہٴ بغداد — Page 21
تحفه بغداد ۲۱ اردو تر جمه سير أيها الشيخ! دع النزاع وما اے شیخ! جھگڑا چھوڑ، جھگڑا ہونا بھی نہیں ينبغى النزاع فاتق الله وأدرك چاہیے۔پس اللہ سے ڈر اور اس فرصت کو ہاتھ سے فرصة لا تضاع وارتحل إلى نہ جانے دے۔میری طرف ایک مستعد راستباز رحلة الصادق المُعِد و سر نحوی کی طرح سفر کر اور سنجیدگی کا طریق اختیار کرتے المجد وتفضَّل وتجشَّمُ إلى ہوئے میری طرف آ۔زحمت اٹھا کر میرے گھر بيتى وكُل إلى شهرين من قرصى تشريف لا۔دو مہینے تک میری طرف سے روٹی وزیتی سیریک الله حالا سالن کھا۔اللہ تعالیٰ تم پر جلد وہ حالت منکشف کر لا ينكشف عن يد غيرى من أهل دے گا جسے میرے سوا ان شہروں کے مکین اور البلدان وجوابتها ولا من تأليفات سیاحوں میں سے کسی کا ہاتھ منکشف نہیں کر سکتا اور محدودة البيان فتعرفنی بعین نہ ہی محدود البیان تالیفات کر سکتی ہیں۔پس تم مجھے اليقين۔وإن تقصدني مُخلِصًا یقین کی آنکھ سے شناخت کرلو گے اور اگر تم اخلاص فادعولک فی آناء اللیل کے ساتھ میرا قصد کرو گے تو میں رات کی گھڑیوں اور وأطراف النهار وأرجو أن يطمئن دن کے اوقات میں تمہارے لئے دعا کروں گا۔مجھے قلبك وأرى آثار الاستجابة | امید ہے کہ تمہارا دل اطمینان پائے گا اور میں قبولیت و تنجاب غشاوة الاسترابة والله دعا کے آثار دیکھ رہا ہوں۔اور شک وشبہ کا پردہ چاک قدير ونصير ومعين۔ہو جائے گا اور اللہ قدیر اور معین و مددگار ہے۔أيها الأخ الشريف الصالح! اے نیک شریف بھائی! علماء کی تکفیر و تکذیب کو لا تنظر إلى تكفير العلماء نہ دیکھ ، کیونکہ میں اللہ کی جانب سے وہ جانتا ہوں جو وتكذيبهم فإني أعلم من الله ما وہ نہیں جانتے۔میں اپنے رب کی طرف لا يعلمون وقد علمتُ حقيقة حقيقت الامر جانتا ہوں اور وہ غافل ہیں۔تو الأمر من ربّى وهم من الغافلين۔میرے بھائیوں کی نگاہ میں پائی جانے والی میری ولا تنظر إلى ذلّتى وهواني | ذلت کمتری اور حقارت کو نہ دیکھ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ ۲۵