تحفہٴ بغداد — Page 22
تحفه بغداد ۲۲ اردو تر جمه وحقارتي في أعين إخواني کی طرف سے مجھے ہر روز وہ نگاہ حاصل ہے فإن لى من الله تعالی فی کل جسے میں بائیں اور دائیں طرف گھماتا ہوں اور يوم نظرةً۔أُقلب نحو الشمال ہر دو حالتوں عُسر وئیر میں رہتا ہوں۔تیز اور ونحــو اليمين وأتقلبُ في دھیمی دونوں ہواؤں کے ساتھ منتقل ہوتا رہتا الحالين بؤس ورخاء وأُنقَلُ ہوں۔انشاء اللہ میرا انجام بخیر ہو گا اور میں مع الريحـيـن زعزع ورخاء بشارت دیئے جانے والوں میں سے ہوں۔وہ والعاقبة خير لى إن شاء الله آج مجھے حقیر سمجھتے ہیں۔تکذیب اور تکفیر کرتے وإني من المبشرين اليوم ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ اگر انہیں مجھ پر قدرت يحـقـرون ويكذبون ويكفرون حاصل ہو جائے تو وہ میرے قتل کے درپئے ہیں وأراهم على حريصين لو كانوا لیکن وہ زمانہ آتا ہے جس میں میری سچائی ظاہر قادریــن و سـیـاتـی زمان يظهر ہو جائے گی اور اللہ اپنے بندوں کو مجھ پر ہونے صدقي فيه ويُرى الله عبادہ والے اپنے فضلوں کے نشان دکھائے گا تو وہ فنی آیات فضله على فيجتلون اُس کی عنایات کے انوار اور اس کی نوازشات أنوار عنایاته ومطارف تفضلاته کے عجائبات دیکھیں گے تب وہ میرے پاس فيأتونني منكسرين۔انکساری کے ساتھ آئیں گے۔فطوبى لعين رأتني قبل وقتى پس اس آنکھ کو مبارک ہو! جس نے میرے وطوبى لسعيــد جـاء نـی (آنے والے) وقت سے پہلے مجھے دیکھ لیا اور كالمخلصين۔أيها الشيخ أس سعادت مند کومبارک ہو! جو مخلصوں کی طرح الوقت قد دنی و معظم العمر قد میرے پاس آیا۔اے شیخ! مقررہ وقت قریب آ گیا فني فأتنى على شريطة الصبر ہے اور عمر کا بیشتر حصہ گزر چکا ہے۔لہذا صبر و ثبات والتوقف وقبول الهدى وعُدُ إلى اور ہدایت قبول کرنے کی شرط پر میرے پاس آ، الحق ودع العداء ولا تنس | حق کی طرف رجوع کر اور دشمنی کو ترک کر دے اور ۲۶