توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 380 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 380

توہین رسالت کی سزا 380 | قتل نہیں ہے غلامی میں لا کر اللہ تعالیٰ سے منسلک کیا جائے اور رسول اللہ صلی للی یکم کے عفو ور حم کو دنیا پر وسیع کیا جائے۔آپ کے حسن و احسان کے واقعاتی منظر پیش کئے جائیں۔آپ کی پاک تعلیم کی تبلیغ کا دائرہ اتنا پھیلا دیا جائے کہ تمام قوموں پر محیط ہو جائے۔ذیل میں چند امور بطور لائحہ عمل پیش ہیں جو بنیادی طور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے مقدس خلفاء کی تحریروں سے ماخوذ ہیں۔ہمارے فریضے الغرض جہاں یہ استہزاء مقدر تھا وہاں اس کے مداوے کے سامان بھی خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں انبیاء علیہم السلام کے ناموس کی حفاظت کے لئے عموماً اور محبوب کبریاء حضرت محمد مصطفی ملی لی نام کے ناموس کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے بنیادی زاویئے یہ ہیں۔(1 ہر مذہب والے اپنی دعوت و تبلیغ میں آزاد ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دیگر بانیان مذاہب پر زبان درازی کریں اور ان کی برائیاں تراشیں اور ان کی تشہیر کریں۔بلکہ انہیں چاہئے کہ وہ اپنے مذہب کی سچائی کے ثبوت کے لئے صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں۔کیونکہ دوسرے کے مذہب کو بُر اثابت کرنے سے اپنے مذہب کی سچائی ثابت نہیں ہوتی۔(r رسول اللہ صلی الل ظلم کے خلاف بدزبانیوں کے علمی دلائل کے ساتھ مدتل تحریر و تقریراً جواب دیئے جائیں۔(μ قوی دلائل کے ساتھ یہ حقیقت بپا یہ مثبوت پہنچائی جائے کہ