توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 379
توہین رسالت کی سزا J۔379 | قتل نہیں ہے توہین رسالت کی روک تھام کی ممکنہ تدابیر ***** اللہ تعالیٰ کے مرسلین علیہم السلام سے استہزاء انسانوں کا وہ سلوک ہے جس پر اللہ تعالیٰ خود بھی اپنے پاک کلام میں يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ (سورۃ لیس: 31) کے الفاظ سے افسوس کا اظہار فرماتا ہے۔چنانچہ ایسا ہر دور میں ہوا ہے کہ سوائے ایمان لانے والے کے ، انسان نے ہر نبی کے انکار کے ساتھ استہزاء کیا ہے اور اس کی توہین و تنقیص کی ہے۔انسانوں کی اس روش کا بالآخر واقعاتی نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کے سب سے بڑے نبی، مقدس بانی اسلام حضرت محمد مصطفی پر استہزاء بھی بڑے پیمانے اور عالمگیر سطح پر ہوا۔انسانوں کے اس سلوک کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک منظر یہ بھی پیش فرما دیا تھا کہ " وَمَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ “ (سورۃ حم السجدہ : 44) کہ تجھے کچھ نہیں کہا جاتا مگر وہی جو تجھ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا ہے۔چنانچہ دیگر مذاہب کے پیروکار جو آپ کے مخالف ہیں اسلام پر اور آپ پر ہر طرح کے گندے حملے کرتے ہیں۔وہ ہر لمحے آپ کے خلاف انتہائی غلیظ اور اذیتناک بہتان طرازی اور دشنام دہی کرتے ہیں۔مگر قرآن کریم ہمیں یہ حوصلہ فراہم کرتا ہے کہ مخالفین و منکرین انبیاء کی یہ سنت بدل نہیں سکتی تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ انہیں قتل کیا جائے بلکہ وہ یہ بتاتا ہے کہ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَ مَنْ حَيَّ عَنْ بَيَّنَةٍ (الانفال: 43) کہ ہلاک شدہ وہی ہوتا ہے جو دلیل سے ہلاک ہو اور زندہ وہی رہتا ہے جو دلیل سے زندہ ہو۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ توہین رسالت کا علاج صرف یہ ہے کہ دلیل، تعلیم ، نمونہ اور تبلیغ سے دنیا کو رسول اللہ صلی نیلم کی