توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 286
توہین رسالت کی سزا 286 | قتل نہیں ہے المدنی ناشر جمیعۃ الدراسات الاسلامیة و مالک بن انس صفحه 174 از عبد الحلیم الجندى مطبوعہ دارالمعارف القاهره مصر 1983۔) شیعہ بھی اپنے مجتہد علماء کے اجماع کو شرعی حجت اور واجب التسلیم قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا یہ اجماع اگر غلط ہو تا تو امام غائب خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔وہ ضرور ظاہر ہو کر اس کی تصحیح فرما دیتے۔(محاضرات في تاريخ المذاهب الفقھیۃ صفحہ 77) اجماع کے بارے میں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی حیثیت نہ قرآن مجید یا حدیث کی سی ہے نہ اس کے مقابل پر اس کا کوئی مقام ہے۔ہاں وہ ان کے تابع ہو تو اس کی کوئی حیثیت ہو سکتی ہے۔کیونکہ آیات قرآنیہ یا احادیث صحیحہ میں تبدیل نہیں ہو سکتا اور یہ مقام اجماع کا بہر حال نہیں ہے۔چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی مجد دبارہویں صدی تحریر فرماتے ہیں۔وو ” یہ ممکن ہے کہ جس بات پر آیت صادق آتی ہے ، وہ اجماع کے مطلب کی موافقت میں نہ ہو۔“ ( الفوز الکبیر فی اصول التفسیر۔ترجمہ صفحہ 204 مطبوعہ 1960 ناشر اردو اکیڈمی سندھ کراچی) پس اگر اجماع کسی غلط موقف پر قرار دیا جارہاہو اور آیت قرآنی یا صحیح حدیث اس کے خلاف کھڑی ہو تو وہ اجماع نہیں کہلا سکتا۔وہ یقینا بگڑا ہو امسئلہ ہے۔اجماع کے حجت ہونے پر بھی علمائے امت میں اختلاف ہے۔چنانچہ قَالَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمُ الرَّازِيُّ وَالآمَدِيُّ ، إِنَّهُ لَا يُفِيدُ إِلَّا الظَّنَّ (ارشاد الفحول للشوكاني مطبع دار الفضيلة للنشر والتوزيع الریاض۔صفحہ 375۔المقصد الثانی۔الاجماع و فیہ ابحاث، البحث الثالث) کہ علماء کی ایک جماعت جن میں امام رازی اور علامہ آمدی بھی شامل ہیں، اس خیال کے قائل ہیں کہ اجماع سے یقین نہیں، صرف