توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 285 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 285

توہین رسالت کی سزا باب چهارم ( 285 } قتل نہیں ہے مقتل شاتم کے مسئلے پر اجماع کا ڈھونگ ***** اجماع سے مراد امتِ مسلمہ کے ارباب حل و عقد اور اجتہاد کا ملکہ رکھنے والے اصحاب علم کا کسی ایسے مسئلے کے بارے میں اتفاق ہے جس کی ٹھیک ٹھیک وضاحت قرآن یا سنتِ ثابتہ میں موجود نہ ہو۔صحابہ کے ایسے اتفاق اور اجماع کو اہل السنت و الجماعت حجت شرعیہ کرتے ہیں۔(محاضرات فی تاریخ المذاهب الفقھیۃ صفحہ 72،73 - از الاستاذ محمد ابو زہرہ۔مطبوعہ مطبع المدنی ناشر جمیعۃ الدراسات الاسلامیة) تسليم صحابہ کے بعد آنے والے مجتہدین کے اتفاق کی کیا اہمیت ہے ؟ اس سلسلے میں اختلاف ہے۔بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اصولاً یہ اتفاق بھی اجماع اور واجب التسلیم ہے۔بعض دوسرے اہل علم کا کہنا ہے کہ دورِ صحابہ کے بعد ایسے اجماع کا وجو د مشتبہ ہے۔نہ یہ معین ہے کہ بعد کے زمانے میں کون کون علماء درجہ اجتہاد پر فائز تھے اور کہاں کہاں اور کس کس ملک میں وہ رہتے تھے۔اور نہ کسی مسئلے پر ان سب کے اتفاق کا علم عملاً میسر آسکتا ہے۔"لا يُمْكِنُ أَنْ يَتَفِقَ الْعُلَمَاءُ فِي كُلِ الْأَقَالِيمِ الْإِسْلَامِيَّةِ الْمُتَنَابِيَّةِ عَلَى رَأْي وَاحِدٍ“ (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية صفحہ 74 ) کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ تمام ممالک اسلامیہ کے علماء ایک رائے پر متفق ہوں۔امام مالک اہل مدینہ کے اجماع کو بھی بطور حجت شرعیہ تسلیم کرتے ہیں۔کیونکہ اہل مدینہ صحابہ کے عمل مستمر کے شاہد اور گواہ ہیں اور ان کے اتفاق کو جو انتخاب خلافت کے سلسلے میں تھا واجب التسلیم مانا گیا ہے۔(محاضرات فی تاریخ المذاهب الفقعینیہ صفحہ 78 از الاستاذ محمد ابو زهره مطبوعہ مطبع