توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 229
توہین رسالت کی سزا { 229 H قتل نہیں ہے ہدایت اور نور سے خالی ہوں گے۔چنانچہ بعد میں یہ شخص اور اس کے قبیلے کے لوگ اس گروہ کے سرغنے بنے جو حضرت علی کے زمانے میں فتنوں میں بنیادی کردار ادا کر نے والے تھے۔کتاب "الصارم۔۔۔۔۔میں دیگر روایات کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ رسول اللہ صلى الم نے اس موقع پر حضرت عمرؓ کو یہ کہہ کر اس کی گردن اڑانے کی اجازت نہ دی تھی کہ ”لوگ باتیں کریں گے کہ محمد (صلی ا کر) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرواتے تھے۔“ یہاں انسان حیران ہوتا ہے اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ نام کے عفو و در گزر اور لطف و احسان کے دامن کی کائنات سے بھی ورے پھیلی ہوئی وسعتوں پر کہ ایک شخص کی فتنہ وشر خیز حالت کو چشم کشفی سے دیکھ بھی رہے ہیں مگر اسے چادر رحمت میں ڈھانپتے بھی چلے جاتے ہیں۔آپ نے یہ فرما کر کہ لوگ باتیں کریں گے کہ محمد (صلی اللی) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرواتے تھے۔“اسے اپنے گروہ اصحاب سے باہر بھی نہیں نکالتے۔سبحان الله اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ اس پر کتاب "الصارم۔۔۔۔۔کا تبصرہ یہ ہے: "إِنَّ النَّبِيَّ عَلا الله لَمْ يَمْنَعْ عُمَرَ مِنْ قَتْلِهِ إِلَّا لِئَلَّا يَتَحَدَّثَ النَّاسُ اَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ وَلَمْ يَمْنَعُهُ لِكَوْنِهِ فِي نَفْسِهِ مَعْصُوماً (جزء الاول: باب ماجری فی تقسیم غنائم حنین۔صفحہ 123) کہ رسول اللہ صلی السلام کے عمر ہو روکنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ شخص بذاتِ خود معصوم الدم ہے۔بلکہ آپ نے صرف اس لئے روک دیا تھا کہ لوگ یہ مشہور کر دیں گے کہ محمد (صلی لیکر) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔اپنی سند اور اصولِ درایت کے لحاظ سے یہ روایت کس درجے کی ہے؟ یہ بحث اپنی جگہ ہے مگر اس تبصرے کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ تھا تو واجب القتل مگر قتل نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی علیم کی شہرت خراب نہ ہو۔گویا ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہر تو ہین کرنے