توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 230
توہین رسالت کی سزا 230 } قتل نہیں ہے والے کو قتل کیا جائے گا۔وہ مرتد ہو جاتا ہے یا اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے ، لہذ ا واجب القتل ہے وغیرہ وغیرہ۔لیکن ساتھ ہی وہ یہ واقعہ بھی پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یکم نے ایسے شخص کو قتل نہ کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔اس قتل نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ آپ کے بارے میں یہ باتیں کریں کہ آپ لوگوں کو قتل کرواتے تھے۔یعنی نعوذ باللہ اپنی رسالت کو بدنامی کے داغ سے پاک رکھنے کے لئے آپ نے عمر کو منع کر دیا کہ وہ اس گستاخ کو قتل نہ کریں۔اگر الصارم۔۔۔۔۔کی یہ دلیل تسلیم کرلی جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ :1 :2 کسی گستاخ کو قتل نہ کیا جائے کیونکہ اس سے رسول اللہ صلی یی کم کا نام بدنام ہوتا ہے۔یہ وجہ ہر زمانے کی طرح آج بھی قائم ہے کہ ایک مسلمان جب کسی کو توہین کی وجہ سے قتل کرتا ہے تو لوگ باتیں کرتے ہیں بلکہ اسے بکثرت شائع کرتے ہیں۔اس لئے اس اصول کے تحت آج بہت زیادہ ضرورت ہے کہ کسی کو بھی اس وجہ سے قتل نہ کیا جائے۔:3 الصارم۔۔۔۔۔۔اور اس نوع کی دیگر کتابوں میں ایسی روایات درج کی گئی ہیں جن کے مطابق آنحضرت صلی الل لم نے بعض لوگوں کو گستاخی اور توہین کی وجہ سے قتل کروایا تھا۔’ الصارم میں قتل کرنے کی جتنی روایات پیش کی گئی ہیں، وہ یہ بتاتی ہیں کہ آپ نے نعوذ باللہ ہمیشہ ور مسلسل اپنے اس مذکورہ بالا قول کے صریحاً خلاف قتل کروائے۔اس کتاب میں جتنی مثالیں بھی دی گئی ہیں وہ سب اس مذکورہ بالا نتیجے کے خلاف جاتی ہیں۔ایسے متضاد دلائل یا موقف جہاں مضحکہ خیز ہیں وہاں ایسے واقعات کے ذکر سے لازماً رسول اللہ صلی یکم کی بد نامی بھی ہوتی ہے۔مستشرقین ایسے واقعات کو لپک کر لیتے ہیں اور ان کے ذریعے آپ کو بد نام کرتے ہیں۔سارے عالم میں آپ کو نعوذ باللہ ظالم اور انسانی خون سے کھیلنے والا ثابت کرنے کی ان کی کوشش مسلسل