توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 228 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 228

توہین رسالت کی سزا 228 ) قتل نہیں ہے ذوالخویصرہ اور کتاب 'الصارم۔۔۔۔۔اسلامی تاریخ میں ذوالخویصرہ نامی ایک شخص اپنے مذموم کردار کی وجہ سے مشہور ہے جس کا ذکر روایات میں متعدد بار آیا ہے۔یہ بنو تمیم قبیلے کا ایک فتنہ پر داز اور گستاخ شخص تھا جس نے غزوہ حنین سے واپسی پر جغرانہ کے مقام پر آنحضرت صلی کم پر اموال کی تقسیم کے سلسلے میں بے انصافی کا الزام لگایا تھا۔وہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جو کچھ آپ نے آج کیا ہے وہ اس نے دیکھا ہے۔آپ نے اس سے پوچھا: ” تو نے کیا دیکھا ہے ؟“ وہ کہنے لگا کہ آج آپ نے انصاف نہیں کیا۔آپ نے فرمایا: " تم پر افسوس۔اگر میں انصاف نہ کروں گا تو دنیا میں اور کون ہے جو انصاف کرے گا۔اگر میں نے انصاف نہیں کیا پھر تو تو خائب و خاسر ہو گیا۔اس کی اس گستاخی پر صحابہ غیرت و غصے میں اٹھے۔بلکہ حضرت عمرؓ نے تو یہ بھی عرض کی: یار سول اللہ ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اُڑا دوں۔آپ نے فرمایا: "دَعُهُ فَإِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهُمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ “۔(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة و مسلم کتاب الزکوۃ باب ذكر الخوارج وصفا تقم و مسند احمد مند المكثرين من الصحابة مسند ابی سعید خدری ” اس کو رہنے دو، کیونکہ اس جیسے اور بھی اس کے ساتھی ہیں۔تم ان کی نمازوں کے مقابل پر اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے مقابل پر اپنے روزوں کو حقیر جانو گے۔یہ قرآن بہت پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔یہ دین سے اس طرح نکلیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے ( یا تیر شکار کے پار ہو جاتا ہے)۔“ یعنی یہ لوگ بظاہر دینی احکامات کی پابندی اور عبادات کی ادائیگی میں اس قدر غلو کریں گے کہ ان کے مقابل پر دوسرے لوگ اپنی عبادت کو کم اور ادنی سمجھیں گے لیکن باطنی طور پر یہ