توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 343
توہین رسالت کی سزا ( 343 } قتل نہیں ہے مامون ہو جائے۔اس دعوت میں آپ نے نہ تو کبھی جارحیت سے کام لیا، نہ جبر سے اور نہ ہی کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی کو اسلام میں داخل کیا۔مثلاً آپ نے کبھی کسی قیدی کو قید میں مجبور پاکر اسلام میں داخل نہیں کیا اور نہ ہی کسی قیدی کی قیمت پر اس کے لواحقین کو اسلام میں داخل کیا۔پس عام حالات میں اسلام کی دعوت دینا بالکل اور بات ہے اور کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اسے اسلام میں داخل کرنا بالکل اور بات۔خاص جنگ کے مواقع پر ' أَسْلِمُ تَسْلَمُ کا پیغام دینا، جنگ سے گریز، امن ، سلامتی اور صلح کا پیغام ہے نہ کہ دین اسلام میں داخل ہونے کی دعوت۔ایسے مواقع پر امن کے معاہدے ہوتے ہیں ، مذہب میں داخل ہونے کے معاہدے نہیں ہو سکتے۔آنحضرت صلی الی یم کے اس پیغام میں اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کا عکس بڑا واضح نظر آتا ہے کہ ”وَان جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ (الانفال: 26) کہ اگر وہ صلح کی طرف جھک جائیں تو تو بھی اس کے لئے جھک جا اور اللہ پر توکل کر۔مذہب کا تعلق دل کی رغبت اور تسلیم سے ہے۔جنگ اور خوف کی حالت میں اگر کوئی اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو اس وقت غالب امکان یہ ہوتا ہے کہ وہ دل سے نہیں بلکہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے یا بالفاظ دیگر اپنے قتل کے خوف سے ، از راہ منافقت ایسا کرتا ہے۔مسلمانوں کو جبر کے ساتھ ان کے دین سے پھرانے کی کوشش اصل میں کفار کا شیوہ تھا اور آنحضرت صلی اللہ یکم وعظ و نصیحت کے مختلف طریقوں سے ان کو اس ظالمانہ طریق سے روکتے تھے۔پھر یہ کیونکر ممکن تھا کہ آپ خود اپنے ہی مسلک کے خلاف اقدام کرتے ؟ پس ظاہر ہے کہ کسی کو تلوار کے خوف سے اسلام میں داخل کرنا آپ کا نہ پیغام تھا، نہ منشا، نہ طریق۔جنگی حالتوں میں أَسْلِمُ تَسْلَم میں آپ کا پیغام یہ تھا کہ صلح و آشتی کے ساتھ ہمارے مطبع ہو کر ہمارے ساتھ مل جاؤ اور امن کے لئے ہماری پیش کش قبول کر لو تو امن و سلامتی میں