توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 344
توہین رسالت کی سزا 344 } قتل نہیں ہے رہو گے۔ہاں اگر مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو یہ تمہارا فیصلہ اور اختیار ہے جس کے تحت ہم تمہیں امن کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ہاں اگر ہماری سر پرستی میں آتے ہو تو پھر ہر حال میں اور ہر صورت میں ہم تمہارے لئے امن و سلامتی کے ضامن ہیں۔آنحضرت صلی علیم کے اس پیغام کے معنے اس کے سوا اور کچھ نہیں تھے اور انہی معنوں کی رُو سے آپ کے اس پیغام میں مذہب تبدیل کرنے کی ہر گز کوئی دھمکی موجود نہیں تھی۔یہ ایک مسلّمہ اور واقعاتی حقیقت ہے اور اسلام کی بنیادی تعلیم ہے کہ مذہب میں داخل کرنے کے لئے اسلام کسی جبر کی اجازت نہیں دیتا۔آنحضرت صلی الم کا ساری زندگی کا طریق اور آپ کا مستقل عمل یہی تھا کہ آپ نے جب بھی کسی دشمن کو مذکورہ بالا پیغام دیا تو اس کے بعد خواہ وہ شکست کھا کر یا معاہدہ کر کے آپ کے تابع ہوا، آپ نے اس کو کبھی بھی مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کیا۔اسے اس کے مذہب و مسلک پر ہی رہنے دیا۔گو مستشرقین نے بار بار ایسے اعتراض کئے ہیں کہ اسلام میں داخل کرنے کے لئے لوگوں کو مجبور کیا گیا تھا مگر غزوہ بدر سے لے کر سریہ حضرت اسامہ بن زید نیتک کوئی ایک حقیقی مثال بھی ایسی نہیں ہے جس سے وہ یہ ثابت کر سکتے ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ ہم تو کجا مسلمانوں کے کسی امیر لشکر نے بھی فتح حاصل کرنے کے بعد یا معاہدہ کرنے کے بعد کسی کو اپنا مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہونے پر مجبور کیا تھا۔خونریزی سے پاک فتح: فتح مکہ کی مہم میں رسول اللہ صلی الل ولم نے انسانی خون کی حفاظت کے لئے کئی تدابیر اختیار فرمائیں۔احادیث کا مستند ریکارڈ بتاتا ہے کہ