توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 342 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 342

توہین رسالت کی سزا 342} قتل نہیں ہے ایک یہ کہ اسلام قبول کر لو یعنی آپ کی رسالت پر ایمان لے آؤ تو سلامت رہو گے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ ہمارے ساتھ سلامتی اور امن کے معاہدہ کر لو یا ہماری اطاعت قبول کر لو تو تم امن و سلامتی میں آجاؤ گے۔رسول اللہ صلی علیم کی سیرت کے منصفانہ مطالعہ سے یہ ثابت ہے کہ آپ کے عمل اور اقدام کے لحاظ سے یہ دونوں معنے اپنے دو مختلف تناظر میں ظاہر ہوئے ہیں۔چنانچہ جب آپ نے بادشاہوں کو خط لکھے تو انہیں واضح الفاظ میں اسلام اور ایمان میں داخل ہونے کی دعوت دی اور انہیں ان کے زیر نگیں قوم کے ایمان کا بھی ذمہ دار ٹھہر آیا۔یہاں اس پیغام کے پہلے معنے مرادو مقصود تھے۔دوسری طرف جب آپ نے حالت جنگ میں اترنے سے پہلے اپنے دشمن کو یہ پیغام دیا تو جنگ کے منظر میں بظاہر یہ ایک دھمکی آمیز پیغام نظر آتا ہے۔یعنی تم مسلمان ہو جاؤ تو محفوظ رہو گے ورنہ نہیں۔مگر آپ کے مستقل عمل اور آپ کی متواتر سنت نے یہ ثابت کیا کہ یہاں اس کے دوسرے معنے تھے کہ آپ نے انہیں اپنے ماتحت آکر امن و سلامتی کی ضمانت پیش فرمائی۔آپ کی تمام جنگوں کی تاریخ ثابت کرتی ہے کہ آپ نے دشمن کے مفتوح ہونے پر اسے کبھی بھی اسلام میں داخل نہیں فرمایا۔نہ ہی کسی کو ایمان لانے پر مجبور فرمایا۔پس یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ یہاں اسلم کے معنے اسلام قبول کرنے کے نہیں ہیں بلکہ کامل فرمانبرداری کے ہیں۔لہذا جنگوں کے تناظر میں رسول اللہ صلی علیم کے فرمان أَسْلِمْ تَسْلَم کے معنے مطیع ہونے اور کامل فرمانبرداری کے لئے جائیں گے۔یہاں یہ مد نظر رہے کہ اسلام کی طرف بلانا آنحضرت علی علیکم کا اصل منصب تھا۔اس کے لئے آپ نے ہر کس و ناکس کو دعوت دی۔آپ کی شدید خواہش تھی کہ ہر شخص اسلام قبول کر کے دنیوی لحاظ سے بھی کامل امن میں آجائے اور اپنی عاقبت اور آخرت کے اعتبار سے بھی