توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 274 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 274

توہین رسالت کی سزا { 274 } قتل نہیں ہے گزشتہ صدی تک عیسائی دنیا میں اُچھالتے اور دنیا کو اسلام سے متنفر کرتے رہے ہیں وہ دراصل خودان مسلمان رہنماؤں کی طرف سے اس مقدس رسول کی پاک ذات پر لگایا جاتارہا ہے۔یہ وہی پتھر ہے جو اس سے پہلے جارج سیل اور سمتھ اور ڈوزئی نے آنحضرت مصلا ل نام پر پھینکا تھا۔یہ وہی الزام ہے جو گاندھی جی نے آپ پر اُس وقت لگایا تھا جب وہ اسلام کی تعلیم۔ابھی پوری طرح آشنا نہیں تھے اور انہوں نے محض دشمنانِ اسلام یا اسلام کے ”اپنے ہی دوستوں کی کہی ہوئی باتوں کوشن کر یہ تاثر قائم کر لیا تھا۔چنانچہ گاندھی جی کے الفاظ میں: اسلام ایسے ماحول میں پیدا ہوا جس کی فیصلہ کن طاقت پہلے بھی تلوار تھی اور آج بھی تلوار ہے۔“ اور ڈوزئی (Dozi) کہتا ہے کہ: "محمد کے جرنیل ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن لے کر تلقین کرتے تھے۔“ اور سمتھ (Smith) کو دعویٰ ہے کہ جرنیلوں کا کیا سوال، خود ” آپ ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن لے کر مختلف اقوام کے پاس جاتے ہیں۔۔“ اور جارج سیل ( George Sale) یہ فیصلہ دیتا ہے کہ: ”جب آپ کی جمعیت بڑھ گئی تو آپ نے دعویٰ کیا کہ مجھے ان پر حملہ کرنے اور بزور شمشیر بت پرستی مٹاکر دین حق قائم کرنے کی اجازت منجانب اللہ مل گئی ہے۔“ ان سب دشمنانِ اسلام کی تحریریں پڑھیں اور پھر مولوی مودودی کی مندرجہ بالا عبارت کا مطالعہ کریں۔کیا یہ بعینہ وہی الزام نہیں جو اس سے پہلے بیسیوں دشمنانِ اسلام نے رحیم و کریم رسول صلی یی کم کی ذات پر لگایا تھا۔بلکہ یہ اس سے بھی زیادہ خطر ناک تھا اور اس سے