توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 275 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 275

توہین رسالت کی سزا ( 275 ) وو قتل نہیں ہے بہت بڑھ کر آپ کی قوتِ قدسیہ پر حملہ کرنے والا۔آپ دشمنانِ اسلام کی عبارتیں پڑھ کر دیکھ لیں، کہیں بھی آپ کو آنحضرت صلی علیم کی قوت قدسیہ کی مزعومہ کمزوری اور معجزات کی ناطاقتی کا ایسا ہولناک نقشہ نظر نہیں آئے گا جیسا مولوی مودودی نے کھینچا ہے۔یعنی آپ کی مسلسل تیرہ سال کی دعوتِ اسلام تو دلوں کو فتح کرنے سے قاصر رہی مگر تلوار اور جبروت نے دلوں کو فتح کر لیا۔وعظ و تلقین کے موثر سے موثر انداز تو صحرائی ہواؤں کی نذر ہو گئے مگر نیزوں کی آنی نے دلوں کی گہرائیوں تک اسلام پہنچادیا۔آپ کے " مضبوط دلائل“ تو عقل انسانی میں جاگزیں نہ ہو سکے مگر گرزوں کی مار خودوں کو توڑ کر اُن کی عقلوں کو قائل کر گئی۔واضح بحثیں اُن کی قوتِ استدلال کو متاثر نہ کر سکیں مگر گھوڑوں کی ٹاپوں نے ان کو اسلام کی صداقتوں کے تمام راز سمجھا دیئے۔فصاحت بلاغت بے کار گئی اور زور خطابت دلوں کو اِس درجہ گرمانہ سکا کہ اسلام کانور اُن کے دلوں میں چمک اٹھتا حتی کہ خود عرش کے خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والے محیر العقول معجزے بھی خائب و خاسر رہے اور ایک ادنی سی پاک تبدیلی بھی پیدا نہ کر سکے لیکن جب داعی اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی۔۔۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔کیس قدر مضحکہ خیز ہے یہ تصور اور کیسے تحقیر آمیز الفاظ ہیں کہ جن کو پڑھ کر رونا آتا ہے کہ یہ ایک ”اسلامی راہنما“ کے قلم سے نکلے ہیں جو رسول کی محبت کا دعویدار ہے۔مولانا کے اِن الفاظ کو پڑھئے اور ”میزان الحق“ کے کینه توز مصنف پادری فنڈر ( Revd Dr C۔G۔Pfander) کے ان الفاظ کا مطالعہ کیجئے: 66 ”اب حضرت محمد تیرہ سال تک نرمی و مہربانی کے وسائل سے اپنے دین کی اشاعت میں کوشش کر چکے تھے۔۔۔۔۔۔لہذا اب سے آنحضرت " النبي بالسیف“ کہلائے یعنی نبی تیغ زن بن گئے اور اس وقت سے اسلام کی مضبوط ترین و کار گر دلیل تلوار ہی قرار پائی۔“ (میزان الحق صفحه: 468)