توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 273
توہین رسالت کی سزا { 273 ) قتل نہیں ہے کا زنگ چھوٹنے لگا۔طبیعتوں سے فاسد مادے خود بخود نکل گئے۔روحوں کی کثافتیں دُور ہو گئیں اور صرف یہی نہیں کہ آنکھوں سے پردہ ہٹ کر حق کا نور صاف عیاں ہو گیا بلکہ گر دنوں میں وہ سختی اور سروں میں وہ نخوت بھی باقی نہیں رہی جو ظہورِ حق کے بعد انسان کو اس کے آگے جھکنے سے باز رکھتی ہے۔عرب کی طرح دوسرے ممالک نے بھی جو اسلام کو اِس سُرعت سے قبول کیا کہ ایک صدی کے اندر چوتھائی دنیا مسلمان ہو گئی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اسلام کی تلوار نے ان پر دوں کو چاک کر دیا جو دلوں پر پڑے ہوئے تھے۔“ (الجہاد فی الاسلام“ باب چہارم ، اشاعت اسلام اور تلوار ، صفحہ 173،174 ایڈیشن 1990 ء ناشر ادارہ ترجمان القرآن) إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔وہ یہ بھی کہتے ہیں: ” یہی پالیسی تھی جس پر رسول اللہ صلی علی کرم نے اور آپ کے بعد خلفائے راشدین نے عمل کیا۔عرب جہاں مسلم پارٹی پیدا ہوئی تھی سب سے پہلے اس کو اسلامی حکومت کے زیر نگیں کیا گیا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی ال نیلم نے اطراف کے ممالک کو اپنے اصول و مسلک کی طرف دعوت دی مگر اس کا انتظار نہ کیا کہ یہ دعوت قبول کی جاتی ہے یا نہیں بلکہ قوت حاصل کرتے ہی رومی سلطنت سے تصادم شروع کر دیا۔آنحضرت صلی علی یکم کے بعد حضرت ابو بکر پارٹی کے لیڈر ہوئے تو انہوں نے روم اور ایران دونوں کی غیر اسلامی حکومتوں پر حملہ کیا اور حضرت عمرؓ نے اس حملہ کو آخری مراحل تک پہنچادیا۔حقیقت جہاد، صفحہ 65، مطبوعہ تاج کمپنی لاہور 1964ء) یعنی وہ انتہائی گندہ اور سخت بہیمانہ الزام ہے جو اسلام کے اشد ترین متعصب دشمنوں کی طرف سے آنحضرت صلی اللی کم کی پاک ذات پر لگایا جاتا تھا۔جسے یورپ کے یاوہ گو مستشرقین