توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 247
توہین رسالت کی سزا { 247 | قتل نہیں ہے رسول اللہ صلی ال نیم کے ہمراہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کی ایسی خارق عادت تائید و طاقت کے ہوتے ہوئے یہ کس طرح گمان کیا جا سکتا ہے کہ نعوذ باللہ کبھی اسلام میں ضعف تھایا آپ کمزور تھے۔آپ نے ہمیشہ باوجود غالب ، قوی اور با اختیار ہونے کے آپ پر جان لیوا حملے کرنے والے ہر دشمن کو بخش دیا اور یہاں مذکورہ بالا واقعے میں بھی ایسے ہی ایک جانی دشمن پر عفو و رحمت کا دامن وسیع کر دینا جو آپ پر قتل کے لئے تلوار سونت چکا تھا، آپ کی عالمین کی وسعتوں سے وسیع تر رحمت کا عکاس ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ کو اگر کسی نے کبھی تکلیف پہنچائی تو آپ نے اس سے ہر گز انتقام نہیں لیا۔ہاں جب اللہ تعالیٰ یا اس کے محارم کی ہتک یا بے حرمتی کی جاتی تو پھر آپ اللہ تعالیٰ کی خاطر انتقام لیتے تھے۔(مسلم کتاب الفضائل باب مباعد تم الاثام۔۔۔۔۔۔) رسول اللہ صلی الم کی طرف قتل و خون کی کہانیوں پر مشتمل جعلی اور وضعی روایتیں تراشنے والے اور ان روایتوں کو ہر ممکن سچا ثابت کرنے کی سعی کرنے والے اور انہیں آپ کی طرف منسوب کرنے والے کاش دیکھتے کہ رسول اللہ صلی الیم نے اپنی ساری زندگی میں صرف معدودے چند افراد کے لئے سزائے موت کا اعلان فرمایا تھا۔انہیں چاہئے تو یہ تھا کہ ان واقعات کے جواز میں قوی دلائل پیش کر کے ثابت کرتے کہ آپ کی تجویز کردہ ان سزاؤں کے پیچھے اللہ تعالیٰ کے محارم کی بے حرمتی تھی یا قصاص تھا۔یا پھر کوئی قومی جرائم تھے ، جن کی پاداش میں انہیں یہ سزائیں سنائی گئی تھیں۔مگر انہوں نے ان سزاؤں کو بھی اور ان کے ساتھ وضعی روایات کے ڈھیر کو بھی رسول اللہ صلی یکم کی پاک سیرت کو داغدار کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور دنیا میں وہ کہ وه کامل م کر دکھایا جو منشائے رسول کے خلاف تھا۔جس سے بچنے کے لئے آپ واضح طور پر اظہار فرما چکے تھے کہ لِئَلَّا يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَه“ تاکہ ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ باتیں کریں کہ محمد (صلی للی ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔مگر یہ لوگ وہ ہیں جنہوں