توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 246 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 246

توہین رسالت کی سزا { 246 } قتل نہیں ہے باعث چڑھے ہوئے سورج کی طرح یقین تھا کہ اگر وہ جنگ میں شامل ہوئے تو لازماً قتل ہوں گے۔۴: آپ کے ہمراہ الہی طاقت کا ایک اور مظاہرہ 7ھ کا واقعہ ہے کہ رسول اللہ صلی یکم غزوہ ذات الرقاع سے واپس جانب مدینہ رواں تھے۔راستے میں دو پہر ایک وادی میں پڑی۔آنحضرت صلى العالم قیلولے کے لئے یہیں اتر گئے۔صحابہ بھی سستانے کے لئے درختوں کا سایہ تلاش کرتے ہوئے ادھر ادھر بکھر گئے۔آپ نے ایک بول کے درخت پر اپنی تلوار لٹکائی اور آرام فرمانے لگے۔ابھی کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ ایک شخص آیا۔اس نے آپ کی تلوار اتار لی۔آپ بیدار ہو گئے۔وہ شخص تلوار سونت کر کہنے لگا: ” اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟“ آپ نے فرمایا : ”میرا اللہ۔“ آپ کے اس جواب میں نصرت الہی کی کوئی ایسی تجلی تھی کہ وہ آپ کے اس پر اعتماد جواب کی ایسی خارق عادت ہیبت اس پر طاری ہوئی کہ وہ لرز گیا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔آپ نے تلوار اٹھائی اور اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ” اب مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے ؟“ اس پر وہ آپ سے عفو و در گزر کی درخواست کرنے لگا اور آپ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔آپ نے فرمایا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔اس نے جواب دیا : ”میں یہ نہیں مانتا لیکن میں آپ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ آئندہ آپ سے کبھی نہیں لڑوں گا اور نہ ان لوگوں کے ساتھ شامل ہوں گا جو آپ سے لڑتے ہیں۔“ آپ نے اسے چھوڑ دیا۔حضرت جابر بیان فرماتے ہیں کہ اس شخص نے واپس جا کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے آیا ہے جو دنیا میں سب سے بہتر ہے۔( بخاری کتاب المغازی غزوہ ذات الرقاع و کتاب الجہاد باب من علق سيفه والسيرة الحلبية غزوة ذات الرقاع )