توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 248 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 248

توہین رسالت کی سزا 248 قتل نہیں ہے نے رسول اللہ صلی علیم کی اس سچی اور پاک خواہش کے علی الرغم یہ ثابت کرنے کی کوششیں انتہاء تک پہنچادیں کہ واقعۂ آپ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے تھے۔اناللہ وانا الیہ راجعون ۵: ایک بڑی فوج کے مقابل پر تنہا غزوۂ حسنین کے موقعے پر اسلامی لشکر بارہ ہزار افراد پر مشتمل تھا۔یعنی اس میں دس ہزار وہی قدوسی تھے جو فتح مکہ کے لئے آپ کے ہمراہ تھے اور دو ہزار افراد مکہ سے بھی شامل ہو گئے تھے۔پہلے کبھی بھی اسلامی لشکر اتنی بڑی تعداد کو نہیں پہنچا تھا۔اس کثرت کو دیکھ کر بعض لوگوں کو فخر بھی ہوا اور عجب بھی۔ایک شخص نے یہ بھی کہا: ”آج نَغْلِبَ الْيَوْمَ مِنْ قِلَّةٍ " کہ آج ہم کم تعداد کی وجہ سے نہیں جیتیں گے۔یہ ایک نخوت کا کلمہ تھا جو کسی کی زبان سے ادا ہو گیا تھا۔ظاہر ہے کہ اس میں یہ اظہار تھا کہ پہلے تو اسلامی لشکر کو کم تعداد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہوتی تھی لیکن اب ہماری تعداد ہی اتنی زیادہ ہے کہ اللہ تعالی کی مدد کے بغیر بھی ہم جیت جائیں گے۔ایسا اظہار آنحضرت صلی ایم کے مزاج اور فطرت کے قطعی خلاف تھا۔چنانچہ لکھا ہے: ”فَشَقَ ذلِكَ عَلَى النَّبِی الله الله ابن سعد و زرقانی غزوه حنین) کہ یہ کلمہ معجب آنحضرت صلی للی کم پر شاق تھا۔اللہ تعالیٰ کو تکبر ویسے ہی پسند نہیں اس لئے اسلامی لشکر میدانِ جنگ میں اس کے نتائج سے بری نہ ہو سکا۔اس کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَيَوْمَ حُنَيْن لا إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ“ (التوبة:25) کہ حنین کا دن، جب تمہاری کثرت نے تمہیں عجب میں مبتلا کر دیا تھا۔اسلامی لشکر جب حسنین کے میدان میں پہنچا تو ارد گر د کمین گاہوں میں چھپے ہوئے دشمن کے تیر اندازوں نے دیکھا کہ وہ ان پر خوب بھر پور حملہ کر سکتے ہیں اور وہ عین ان کے نشانہ پر ہیں تو انہوں نے یکدم تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔اسی لمحے اس کی دیگر فوج نے بھی ان کے ساتھ یکجان ہو کر بھر پور حملہ کیا۔گلے کے نو مسلم جو اسلامی فوج میں افراد کی کثرت دیکھ کر اس میں