توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 162
توہین رسالت کی سزا { 162 } قتل نہیں ہے چڑھائی کی۔یہی آپ نے غزوہ احزاب کے بعد فرمایا تھا " الانَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا “ یعنی اب وہ ہم پر چڑھائی نہیں کریں گے بلکہ اگر وہ ہمارے خلاف اٹھنے کی کوشش کریں گے تو ہم اپنے دفاع کے لئے ان پر چڑھائی کریں گے۔اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علم غزوہ تبوک کے لئے شدید صحرائی گرمی میں سینکڑوں میل کا انتہائی مشقت خیز اور تکلیف دہ سفر اختیار کر کے عرب کے شمال میں تبوک تک تشریف لے گئے۔اللہ تعالیٰ نے اس غزوے کا نام ہی الغزوۃ العسرۃ یعنی شدید تنگی و تکلیف والا غزوہ رکھا ہے۔اسی طرح اور بھی کئی ایک سرایا اور مہمات ایسی تھیں جو آپ نے ایسی شرارت کرنے والوں کی سرکوبی کے لئے بھجوائیں۔آنحضرت صلی ال نیم کے ایسے اقدامات کو کھینچ تان کر توہین کی سزا کے طور پر پیش کرنا آپ پر کھلا کھلا اتہام ہے۔آپ نے کسی گالی دینے والے کو صرف گالی کی سزا کے لئے قتل کرنے کا حکم نہیں فرمایا۔چنانچہ گزشتہ صفحات میں ہم بدلائل ثابت کر آئے ہیں کہ آپ کی ساری حیات طیبہ میں ایک واقعہ بھی ایسار و نما نہیں ہوا۔رسول اللہ صلی اللی یکم نے ایسے اقدام باغیوں اور مسلمانوں پر جنگ مسلط کرنے کی تیاری کرنے والے قبائل کی سرکوبی کے لئے اس لئے کئے کہ تا فریقین کو کثیر جانوں کے اتلاف سے بچایا جائے۔کسی جگہ اگر کسی ایک فتنہ پرداز شخص کے قتل کا حکم اس کی بغاوت ، فساد یا محار بانہ کارروائی کی وجہ سے کیا بھی گیا ہے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ ایک شخص کے نقصان سے قبیلے اور قوم کی بکثرت جانوں کی حفاظت ہو سکے۔مبادا کہ وہ اس فتنہ پرداز کے پیچھے ہو کر اپنی جانیں گنوا ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے یہ حکم دیا ہے کہ اگر وہ تم پر جنگ مسلط کریں تو اس میں بھی کوشش کرو کہ ائمۃ الکفر کو مارو۔اس کی وجہ یہی تھی کہ لاعلمی کے نتیجے میں ان لیڈروں کی اتباع کرنے والوں کی جانیں تلف نہ ہوں۔ایک دو یا چند ایک کی ہلاکت سے دیگر سب بچالئے جائیں۔